🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

416. الِاخْتِلَافُ فِي قِرَاءَةِ بَعْضِ الْآيَاتِ بَيْنَ أُبَيٍّ وَعُمَرَ
سیدنا اُبیّ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان بعض آیات کی قراءت میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5412
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدَّثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدَّثنا قَبيصة بن عُقْبة، حدَّثنا سفيان، قال: حدثني حَبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: قال عُمر: عليٌّ أقضانا، وأُبيٌّ أقرؤُنا، وإِنَّا لَندَعُ بعض ما يقولُ أبيٌّ، وأبيٌّ يقول: أخذتُ عن رسول الله ﷺ ولا أدعُه، وقد قال الله ﵎: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا﴾ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5328 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اچھی قراءت کرنے والے ہیں، اور ہم سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کہی ہوئی کچھ باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جبکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے (آیات اور اس کے احکام) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لئے ہیں اور میں ان کو چھوڑ نہیں سکتا۔ حالانکہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا} [البقرة: 106] (مطلب یہ کہ خود قرآن کریم میں ہے کہ کچھ آیات منسوخ ہیں تو پھر ہر آیت پر عمل کیسے ہو سکتا ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5412]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5413
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدَّثنا أبو أسامة، عن محمد بن عمرو، حدَّثنا أبو سلمة ومحمد بن إبراهيم التَّيمي، قالا: مَرَّ عمر بن الخطاب برجل وهو يقول: ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ إلى آخر الآية [التوبة: 100] ، فوقف عليه عمرُ، فقال انصرِف، فلما انصرفَ قال له عمر: مَن أقرأكَ هذه الآية؟ قال: أَقرأنِيها أبيُّ بنُ كعب، فقال: انطلِقُوا بنا إليه، فانطلَقُوا إليه، فإذا هو مُتكئٌ على وسادةٍ يُرجِّل رأسَه، فسَلَّم عليه، فردَّ السلامَ، فقال: يا أبا المُنذِر، قال: لَبَّيكَ، قال: أخبَرَني هذا أنك أقرأتَه هذه الآيةَ، قال: صدقَ، تَلقَّيتُها من رسولِ الله ﷺ قال عُمر: أَنتَ تَلقَّيتَها مِن رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، أنا تلقَّيتُها مِن رسول الله ﷺ، ثلاثَ مرات، كلَّ ذلك يقولُه، ثم قال في الثالثة وهو غَضبانُ: نعم، والله لقد أنزلَها الله على جِبريلَ، وأنزلها جِبريلُ على محمدٍ، فلم يَستأمِرْ فيها الخَطاب ولا ابنَه، فخرج عمرُ وهو رافِعٌ يدَيه وهو يقول: الله أكبرُ، الله أكبرُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5329 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ابوسلمہ اور محمد بن ابراہیم تیمی فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا، وہ یہ آیت پڑھ رہا تھا: {السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ} [التوبة: 100] اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سن کر وہیں رک گئے۔ جب وہ آدمی فارغ ہوا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے؟ اس سے کہا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ چلو، وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل دیئے، آپ ان کو لے کر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچے، اس وقت سیدنا ابی بن کعب تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے سر میں کنگی کر رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا، انہوں نے جواب دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوالمنذر! انہوں نے آپ کی بات پر لبیک کہا۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس شخص نے بتایا ہے کہ اس کو یہ آیت تم نے پڑھائی ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ میں نے یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ بات پوچھی اور انہوں نے) تین مرتبہ یہی جواب دیا بلکہ تیسری مرتبہ تو وہ بہت غصے میں آ گئے اور فرمایا: ہاں ہاں خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے یہ آیت سیدنا جبریل امین علیہ السلام پر نازل کی اور انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ اس میں نے خطاب سے مشورہ کیا اور نہ اس کے بیٹے سے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے واپس آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5413]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں