🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
418. ذِكْرُ وَفَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5422
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا هارون بن سليمان، حدَّثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن مالك، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ قال لعبد الرحمن:"كيف صنعتَ يا أبا محمدٍ في استِلامِ الحَجَر؟" قال: استلمتُ وتَركتُ، قال:"أصبتَ يا أبا محمدٍ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5339 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: اے ابو محمد! تم نے حجرِ اسود کے استلام کے وقت کیا طریقہ اختیار کیا؟ انہوں نے عرض کی: میں نے موقع ملنے پر استلام کیا اور اژدھام کی صورت میں اسے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو محمد! تم نے درست کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على هشام بن عروة في وصله وإرساله كما تقدم برقم (5420).» [ترقيم الرساله 5422] [ترقيم الشركة 5377] [ترقيم العلميه 5339]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5422 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على هشام بن عروة في وصله وإرساله كما تقدم برقم (5420).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور اس سند کے راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن اس میں ہشام بن عروہ پر اس کے وصل (متصل ہونے) اور ارسال (منقطع ہونے) میں اختلاف ہوا ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (5420) پر گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5422 in Urdu