🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

418. ذِكْرُ وَفَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5416
حدَّثنا محمد بن المُؤمَّل، حدَّثنا الفضل بن محمد، حدَّثنا أحمد بن حنبل، حدَّثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، قال: مات عبدُ الرحمن بن عوف لِتسعٍ من سِنيِّ عثمان، وصلَّى عليه عثمانُ، وكان قد بلغ خمسًا وسبعين سنةً (3) .
یعقوب بن ابراہیم بن سعد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے نویں سال ہوئی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اس وقت ان کی عمر پچھتر سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5416]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5416] [ترقيم الشركة 5371]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5417
حدَّثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدَّثنا إبراهيم بن الحُسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا شعبة، عن سعد بن إبراهيم، سمعت إبراهيم بن قارِظٍ يقول: سمعتُ عليًّا يقول حين مات عبدُ الرحمن بن عوف: أدركتَ صَفْوَها، وسَبَقتَ رَنَقَها (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5334 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت فرمایا: تم نے اس (دنیا) کی پاکیزگی پا لی اور اس کی کدورتوں سے پہلے (رحلت کر کے) سبقت لے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5417]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه اختُلف فيه على سعد بن إبراهيم في تعيين الراوي عن علي بن أبي طالب، فأما شعبة، فيروي هذا الخبر عن سعد بن إبراهيم عن إبراهيم بن قارظ - وهو ابن عبد الله بن قارظ - كما في رواية المصنف، وخالفه إبراهيم ...» [ترقيم الرساله 5417] [ترقيم الشركة 5372] [ترقيم العلميه 5334]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5418
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا موسى بن زكريا، حدَّثنا خليفة بن خَيّاط، فذكر هذا النَّسب، وزاد: وكان عبد الرحمن يُكنى أبا محمد، وكان اسمه في الجاهلية: عبدَ الكعبة، فسمّاهُ رسول الله ﷺ عبدَ الرحمن (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5335 - على شرط البخاري ومسلم
خلیفہ بن خیاط نے مذکورہ بالا نسب ہی بیان کیا ہے اور یہ اضافہ فرمایا کہ عبد الرحمن کی کنیت ابو محمد تھی، جاہلیت میں ان کا نام عبد الکعبہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5418]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5418] [ترقيم الشركة 5373] [ترقيم العلميه 5335]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5419
فأخبرَنَاه الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، قال: أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا محمد بن أبي نُعيم الواسطي، حدَّثنا إبراهيم بن سعد، قال: حدثني أبي، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ عمرٍو، فسماني رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5336 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جاہلیت میں میرا نام عبد عمرو تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبد الرحمن رکھ دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ من أجل محمد بن أبي نُعيم الواسطي - وهو محمد بن موسى بن أبي نُعيم يُنسب لجده كثيرًا - وقد توبع. إبراهيم بن سعد: هو ابن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف.» [ترقيم الرساله 5419] [ترقيم الشركة 5374] [ترقيم العلميه 5336]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5420
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر، حدَّثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدَّثنا عبد الله بن مَسلَمة فيما قرأ على مالك، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال رسولُ الله ﷺ لعبد الرحمن:"كيف صَنَعتَ يا أبا محمدٍ في استلام الرُّكْن؟" يعني الحَجَر الأسود، فقال عبد الرحمن: استلمتُ وتَركتُ، فقال رسول الله ﷺ:"أصبْتَ" (2) لست أشكُ في لُقيّ عُرُوةَ بن الزُّبَير عبدَ الرحمن بن عَوف، فإن كان سمع منه هذا الحديثَ فإنه صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: اے ابو محمد! تم نے رکن (حجرِ اسود) کے استلام کے وقت کیا طریقہ اختیار کیا؟ عبد الرحمن نے عرض کی: میں نے (موقع ملنے پر) استلام کیا اور (اژدھام کی صورت میں) اسے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے درست کیا۔
مجھے عروہ بن زبیر کی سیدنا عبد الرحمن بن عوف سے ملاقات میں کوئی شک نہیں، پس اگر انہوں نے یہ حدیث ان سے سنی ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5420]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على هشام بن عروة في وصله وإرساله، رواه عنه قوم فوصلوه، ورواه آخرون عنه فأرسلوه، والذين وصلوه ثقات حفاظ، وعروة ابن الزبير لا شكَّ بلقيِّه عبدَ الرحمن بن عوف كما قال المصنف بإثره، فإسناد الموصول صحيح إن كان عروة سمعه من ...» [ترقيم الرساله 5420] [ترقيم الشركة 5375]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5421
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: حدثني أبي، حدَّثنا محمد بن جعفر، حدَّثنا شُعبة، عن سعد بن إبراهيم، عن أبيه، قال: لقد رأيتُ سعدَ بن أبي وقَّاص في جنازة عبد الرحمن بن عوف، قال: اذهب ابن عَوفٍ ببُطَينِك، لم يَتَغَضغَضُ منها شيءٌ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5338 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابراہیم بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جنازے میں دیکھا، انہوں نے (رشک و محبت سے) فرمایا: اے ابنِ عوف! آپ چلے جائیے اس حال میں کہ آپ کا دامن نیکیوں سے بھرا ہوا ہے اور ان میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5421]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن ما وقع هنا من ذكر سعد بن أبي وقاص فوهمٌ، لأنَّ المحفوظ أنَّ الخبر لعمرو بن العاص، كذلك جاء في "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل (1254)، وهو برواية أبي بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي عن عبد الله بن أحمد بن حنبل عن أبيه، فالوهم هنا إما من ...» [ترقيم الرساله 5421] [ترقيم الشركة 5376] [ترقيم العلميه 5338]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5422
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا هارون بن سليمان، حدَّثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن مالك، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ قال لعبد الرحمن:"كيف صنعتَ يا أبا محمدٍ في استِلامِ الحَجَر؟" قال: استلمتُ وتَركتُ، قال:"أصبتَ يا أبا محمدٍ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5339 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: اے ابو محمد! تم نے حجرِ اسود کے استلام کے وقت کیا طریقہ اختیار کیا؟ انہوں نے عرض کی: میں نے موقع ملنے پر استلام کیا اور اژدھام کی صورت میں اسے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو محمد! تم نے درست کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على هشام بن عروة في وصله وإرساله كما تقدم برقم (5420).» [ترقيم الرساله 5422] [ترقيم الشركة 5377] [ترقيم العلميه 5339]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5423
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات عبدُ الرحمن بن عوف، ويُكنى أبا محمد، سنة اثنتين وثلاثين، وهو ابن خمس وسبعين سنة (1) .
محمد بن عبد اللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابو محمد تھی، سن 32 ہجری میں وفات پا گئے اور اس وقت ان کی عمر 75 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5423]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5423] [ترقيم الشركة 5378]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں