🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
427. كان عبد الله بن مسعود صاحب سر رسول الله
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رازدار تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5448
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدَّثنا أبو كُريب، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، عن سُليمان بن أبي سُليمان، عن أبي هاشم، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله بن مسعود: أنَّ النبي: النبي ﷺ كناه أبا عبد الرحمن ولم يُولَد له (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوعبدالرحمن رکھی۔ حالانکہ ان کی اولاد نہیں تھی۔ (یا یہ ترجمہ بھی ہو سکتا ہے حالانکہ ابھی عبدالرحمن کی تو ان کے ہاں ابھی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5448]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5448 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده واهٍ من أجل سليمان بن أبي سليمان - وهو الخُوزي القافلائي - ولم يُصب الحافظ ابن حجر ﵀ في "فتح الباري" 18/ 628 إذ صحَّح إسناد هذا الخبر، ذاهلًا عن سليمان القافلائي هذا. أبو كُريب: هو محمد بن العلاء الهَمْداني، وأبو هاشم: هو الرُّماني الواسطي، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي، وعلقمة: هو ابن قيس النَّخَعِي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (کمزور/بوہدی) ہے، جس کی وجہ سلیمان بن ابی سلیمان (الخوزی القافلائی) ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا "فتح الباری" (18/ 628) میں اس خبر کی اسناد کو "صحیح" قرار دینا درست نہیں ہے، شاید وہ سلیمان القافلائی (کے ضعف) سے غافل رہ گئے۔ (دیگر راویوں کا تعین): ابو کریب سے مراد محمد بن العلاء الہمدانی ہیں، ابو ہاشم سے مراد الرمانی الواسطی، ابراہیم سے مراد ابن یزید النخعی اور علقمہ سے مراد ابن قیس النخعی ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8405)، وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4474) عن محمد بن عبد الله الحضرمي، بهذا الإسناد. وأخرجه البزار (1580)، والعُقيلي في "الضعفاء" (566) من طريق محمد بن عثمان بن كرامة، وأسلم بن سهل الواسطي في "تاريخ واسط" ص 183 عن الحسن بن حماد، كلاهما عن عُبيد الله بن موسى، به وسيأتي برقم (5451) من طريق الخصيب بن ناصح عن سليمان القافلائي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (8405) میں، اور ان سے ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (4474) میں محمد بن عبداللہ الحضرمی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز بزار (1580)، عقیلی نے "الضعفاء" (566) میں (محمد بن عثمان بن کرامہ کے طریق سے) اور اسلم بن سہل الواسطی نے "تاریخ واسط" (ص 183) میں (حسن بن حماد کے طریق سے) روایت کیا ہے۔ یہ سب عبیداللہ بن موسیٰ سے روایت کرتے ہیں۔ اور یہ آگے نمبر (5451) پر خصیب بن ناصح (عن سلیمان القافلائی) کے طریق سے بھی آئے گا۔