🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
440. وفاة عباس بن عبد المطلب
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5485
فأخبرني عبد الله محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا جَدّي، حدثنا الزُّبير بن بَكّار، قال: كان العباس أسنَّ من رسول الله ﷺ بثلاث سنين: إلى أُتِيَ، إلى أمي، فقيل لها: وَلَدَت آمنهُ غلامًا، فخرجَتْ بي حين أصبَحَتْ آخِذةً بيدي حتى دَخَلْنا عليها، فكأني أنظُرُ إليه يَمصَعُ رِجلَيه في عَرْصَتِه، وجعل النساءُ تجذبُني (2) ويَقُلنَ: قَبِّل أخاكَ. قال: ومات العباسُ سنة أربع وثلاثين وهو ابن ثمان وثمانين سنة (3) .
سیدنا زبیر بن بکار فرماتے ہیں: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (سے پوچھا گیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنے بڑے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: کہ وہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین سال بڑے ہیں۔ میری والدہ محترمہ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ سیدنا آمنہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، تو جب صبح ہوئی تو میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدنا آمنہ کے گھر چلی گئیں۔ آج بھی میری نگاہوں میں وہ منظر موجود ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے صحن میں تھے اور اپنے پاؤں ہلا رہے تھے۔ اور عورتیں مجھ سے باتیں کرنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اپنے بھائی کے ہاتھوں کو چومو۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ 88 سال کی عمر میں سن 34 ہجری میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5485]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5485 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) أُهملت هذه الكلمة في (ص) و (م) وتصحفت في (ز) و (ب) إلى: تحدثني، وفي المطبوع إلى: يحدثني، والمثبت هو الموافق لما في المصادر التي أوردت الخبر، حيث جاء فيها: يَجبِذنني. والجبذ والجذب لغتان.
📝 نوٹ / تصحیحِ متن: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ مہمل (بغیر نقطوں کے) چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تصحیف کا شکار ہو کر "تحدثنی" بن گیا، اور مطبوعہ نسخے میں "یحدثنی" لکھا گیا۔ البتہ یہاں جو لفظ (متن میں) ثابت کیا گیا ہے وہ ان مصادر کے موافق ہے جنہوں نے اس خبر کو روایت کیا ہے، وہاں لفظ "یَجبِذننِی" (وہ مجھے کھینچتے تھے) آیا ہے۔ یاد رہے کہ "الجبذ" اور "الجذب" دونوں (ہم معنی) لغات ہیں۔
(3) وهو عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 282 - 283 من طريق أحمد بن سليمان الطُّوسي، عن الزُّبير بن بكار. لكن لم يذكر سنة وفاة العباس ولا سنَّه يوم توفي.
📖 حوالہ / تخریج: یہ روایت ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" 26/ 282-283 میں احمد بن سلیمان طوسی کے طریق سے، زبیر بن بکار سے مروی ہے۔ لیکن اس میں عباس رضی اللہ عنہ کی وفات کا سال اور وفات کے وقت ان کی عمر کا ذکر نہیں ہے۔
ووافق الزبير بن بكار على ذكر وفاة العباس سنة أربع وثلاثين ابن إسحاق كما رواه عنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5326)، وأبو الحسن المدائني كما رواه عنه ابن أبي خيثمة في السِّفر الثاني من "تاريخه" (2726)، ومن طريقه ابن عساكر 26/ 380. ووافقه كذلك خليفة بن خياط في طبقاته ص 4.
📌 تاریخی نکتہ: عباس رضی اللہ عنہ کی وفات سن 34 ہجری میں ہونے کے حوالے سے زبیر بن بکار کی موافقات (تائید) ابن اسحاق نے کی ہے (جیسا کہ ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" 5326 میں ان سے روایت کیا)؛ اسی طرح ابو الحسن مدائنی نے بھی موافقت کی ہے (جیسا کہ ابن ابی خیثمہ نے اپنی "تاریخ" کے دوسرے حصے 2726 میں، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر 26/ 380 نے روایت کیا)۔ نیز خلیفہ بن خیاط نے بھی اپنے طبقات (ص 4) میں ان کی موافقت کی ہے۔
وخالفهم جمهور العلماء كما في "تاريخ دمشق" 26/ 282 و 379 - 380.
📌 اختلافِ علماء: تاہم جمہور علماء نے ان (مذکورہ مؤرخین) کی مخالفت کی ہے (یعنی وفات کا سال کچھ اور بتایا ہے)، جیسا کہ "تاریخ دمشق" 26/ 282 اور 379-380 میں تفصیل موجود ہے۔
يَمصَعُ، أي: يُحرِّك. والعَرْصة - بالصاد المهملة أو بالضاد المعجمة - الثوب أو الجلد الذي يكون فيه الصبي إذا أُرضع ويربَّى فيه. انظر "شرح غريب السير" للخشني ص 220.
📝 لغوی تحقیق: لفظ "یَمصَعُ" کا معنی ہے: وہ حرکت دیتا ہے / ہلاتا ہے۔ اور "العَرصَۃ" (صاد مہملہ یا ضاد معجمہ کے ساتھ) اس کپڑے یا چمڑے کو کہتے ہیں جس میں بچے کو دودھ پلاتے وقت یا پرورش کے دوران رکھا جاتا ہے۔ دیکھئے: خشنی کی "شرح غریب السیر" ص 220۔