المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. ربما اغتسل قبل أن ينام وربما نام قبل أن يغتسل
کبھی رسولُ اللہ ﷺ سونے سے پہلے غسل فرماتے اور کبھی غسل سے پہلے سو جاتے۔
حدیث نمبر: 550
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب [ببغداد، حدثنا] (2) أبو الأحوَص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن كثير بن عُفَير ويحيى بن عبد الله بن بُكَير قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن أبي قيس قال: سألتُ عائشةَ قلت: كيف كان رسول الله ﷺ يَصنَعُ في الجنابة، أكان يغتسلُ قبلَ أن ينام، أو ينامُ قبل أن يغتسلَ؟ قالت: كلَّ ذلك قد كان يفعل، ربَّما اغتسل فنام، وربَّما توضأَ فنام، قلت: الحمد لله الذي جَعَلَ في الأمر سَعَةً (3) . رواه مسلم في"الصحيح" عن قتيبة، ولم يذكر شواهدَه بألفاظها. وقد تابعه غُضَيف بن الحارث عن عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 543 - رواه مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 543 - رواه مسلم
عبداللہ بن ابی قیس بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ جنابت میں کیا کیا کرتے تھے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں کام کیا کرتے تھے، کبھی غسل فرما کر سو جاتے اور کبھی وضو فرما کر سو جاتے۔“ میں نے کہا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔“
امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے لیکن اس کے تمام شواہد اور الفاظ ذکر نہیں فرمائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 550]
امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے لیکن اس کے تمام شواہد اور الفاظ ذکر نہیں فرمائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 550]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 550 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين مكانه بياض في النسخ الخطية، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي 1/ 200 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه.
📌 اہم نکتہ: خطی نسخوں میں بریکٹ [ ] والی جگہ خالی تھی، جسے ہم نے امام بیہقی کی "السنن الکبری" (1/ 200) سے مکمل کیا ہے، جہاں انہوں نے امام حاکم کی سند اور متن سے اسے روایت کیا ہے۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24453)، ومسلم (307) (26)، وأبو داود (1437)، والترمذي (2924) من طريقين عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (40/ 24453)، مسلم (307/ 26)، ابوداؤد (1437) اور ترمذی (2924) نے لیث بن سعد کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25160)، ومسلم (307)، والنسائي في "المجتبى" (404) من طريقين ¤ ¤ عن معاوية بن صالح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/ 25160)، مسلم (307) اور نسائی نے "المجتبیٰ" (404) میں معاویہ بن صالح کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔