🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
454. مَجِيءُ مَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ وَإِعْطَاءُ النَّبِيِّ مِنَ الْعَبَّاسِ
بحرین سے مال آنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو عطا فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5510
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصَّيرفي بمَرُو، حدثنا موسى بن سهل بن كثير، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا سليمان بن المُغيرة، عن حُمَيد بن هلال، عن أبي موسى الأشعري: أنَّ العلاء بن الحَضْرمي بَعَثَ إلى رسول الله ﷺ من البحرين بثمانين ألفًا، فما أتى رسول الله ﷺ مالٌ أكثر منه لا قبلها ولا بعدها، فأَمر بها، فنُثرَت على حَصِير، ونُودي بالصلاة، فجاء رسولُ الله ﷺ يَميلُ على المال قائمًا، فجاء الناسُ وجعل يُعطيهم، وما كان يومئذٍ عددٌ ولا وزنٌ، ما كان إِلَّا قَبضًا، فجاء العباسُ فقال: يا رسول الله، إني أعطَيتُ فِدائي وفداء عَقِيل يوم بدر، ولم يكن لعَقِيل مالٌ، أعطني من هذا المال، فقال رسولُ الله ﷺ:"خُذْ" فَحَثَى فِي خَمِيصةٍ كانت عليه، ثم ذهب ينصرفُ فلم يَستطِع، فرفع رأسه إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، ارفع عليَّ، فتبسَّم رسولُ الله ﷺ وهو يقول (1) : أما أحدُ ما وَعَدَ الله فقد أنجز، ولا أدري الأخرى، ﴿قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ﴾، هذا خيرٌ مما أُخِذ مني، ولا أدري ما يُصنع في المغفرة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5423 - على شرط مسلم
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علاء بن حضرمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بحرین سے اسی ہزار (درہم یا دینار کی خطیر رقم) بھیجی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی اس سے زیادہ مال نہیں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے ایک چٹائی پر بکھیر دیا گیا۔ پھر نماز کی اذان دی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھڑے ہو کر اس مال کی طرف متوجہ ہوئے۔ لوگ آتے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عطا فرماتے رہے۔ اس دن نہ کوئی گنتی تھی اور نہ کوئی وزن، بس مٹھیاں بھر بھر کر دیا جا رہا تھا۔ اسی دوران سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے جنگ بدر کے دن اپنا اور عقیل کا فدیہ ادا کیا تھا، اور عقیل کے پاس مال نہیں تھا، لہٰذا مجھے اس مال میں سے عطا فرمائیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے لیں۔“ تو انہوں نے اپنی اونی چادر میں لپ بھر لیے۔ پھر وہ جانے کے لیے مڑے لیکن (بوجھ زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے اٹھا) نہ سکے، تو انہوں نے اپنا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھایا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اسے مجھ پر اٹھوا دیجیے۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ (اس وقت) کہہ رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے جو وعدے کیے تھے، ان میں سے ایک تو پورا ہو گیا، اور دوسرے کا مجھے علم نہیں، (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) ﴿قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ﴾ ”(اے نبی!) آپ کے قبضے میں جو قیدی ہیں، ان سے کہہ دیجیے کہ اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی جان لی، تو وہ تمہیں اس (مال) سے بہتر عطا فرمائے گا جو تم سے لیا گیا ہے، اور تمہیں بخش دے گا۔“ [سورة الأنفال: 70] یہ مال یقیناً اس سے بہتر ہے جو مجھ سے لیا گیا تھا، اور مجھے نہیں معلوم کہ مغفرت کے معاملے میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5510]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف موسى بن سهل بن كثير، وقد تابعه في الطريق التالية الحَسَن بن الحارث الأهوازي، وهو مجهول انفرد بالرواية عنه عبدان ولم يوثقه أحدٌ، وجعلا هذا الخبر من رواية حميد بن هلال عن أبي موسى الأشعري غير أنَّ الحَسَن بن الحارث زاد بينهما أبا بردة ...» [ترقيم الرساله 5510] [ترقيم الشركة 5464] [ترقيم العلميه 5423]

الحكم على الحديث:
حديث حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5510 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو العباس كما توضحه رواية غير المصنف.
📝 نوٹ / توضیح: (1) یہ بات کہنے والے حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ مصنف کے علاوہ دوسری روایت سے واضح ہوتا ہے۔
(2) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف موسى بن سهل بن كثير، وقد تابعه في الطريق التالية الحَسَن بن الحارث الأهوازي، وهو مجهول انفرد بالرواية عنه عبدان ولم يوثقه أحدٌ، وجعلا هذا الخبر من رواية حميد بن هلال عن أبي موسى الأشعري غير أنَّ الحَسَن بن الحارث زاد بينهما أبا بردة بن أبي موسى الأشعري، وخالفهما الثقة الحافظ محمد بن سعد صاحب "الطبقات" 4/ 14 حيث روى هذا الخبر عن هاشم بن القاسم، عن سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال: أنَّ العلاء بن الحضرمي بعث … هكذا جعله من مرسل حميد بن هلال، وبيَّن أن آخره وهو قوله: أما أحد، إلى آخره، من قول العباس بن عبد المطلب، وكذلك رواه جماعة من الثقات عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال مرسلًا، منهم مرسلًا، منهم أبو أسامة حماد أبو أسامة حماد بن أسامة عند ابن أبي شيبة 14/ 85، وعمرُو بن عاصم الكلابي عند يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 503، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 294، وشيبانُ بن فَرُّوخ عند البلاذُري في "فتوح البلدان" ص 88، فهذا هو المحفوظ في رواية حميد بن هلال أنها مرسلة، وآخره من قول العباس.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث حسن ہے، اگرچہ یہ سند موسیٰ بن سہل بن کثیر کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگلی سند میں ان کی متابعت حسن بن حارث اہوازی نے کی ہے، لیکن وہ مجہول ہیں اور ان سے روایت میں عبدان منفرد ہیں اور کسی نے ان کی توثیق نہیں کی۔ ان دونوں نے اس خبر کو حمید بن ہلال عن ابی موسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے، البتہ حسن بن حارث نے ان کے درمیان "ابو بردہ بن ابی موسیٰ" کا واسطہ بڑھایا ہے۔ ان دونوں کی مخالفت ثقہ حافظ محمد بن سعد (صاحبِ طبقات) نے (4/ 14) میں کی ہے، جہاں انہوں نے ہاشم بن قاسم عن سلیمان بن مغیرہ عن حمید بن ہلال سے روایت کیا ہے کہ: "علاء بن حضرمی نے بھیجا..."، اس طرح انہوں نے اسے حمید بن ہلال کی مرسل روایت قرار دیا ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ اس کا آخری حصہ یعنی "أَمَّا أَحَدٌ..." حضرت عباس بن عبدالمطلب کا قول ہے۔ اسی طرح ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے سلیمان بن مغیرہ عن حمید بن ہلال سے مرسلاً روایت کیا ہے، جن میں ابو اسامہ حماد بن اسامہ [ابن ابی شیبہ 14/ 85]، عمرو بن عاصم کلابی [یعقوب بن سفیان کی المعرفۃ والتاریخ 1/ 503 اور ابن عساکر 26/ 294]، اور شیبان بن فروخ [بلاذری کی فتوح البلدان ص 88] شامل ہیں۔ چنانچہ حمید بن ہلال کی روایت میں محفوظ یہی ہے کہ یہ مرسل ہے اور اس کا آخری حصہ حضرت عباس کا قول ہے۔
ويشهد له دون الاستشهاد بالآية حديث أنس بن مالك الذي علَّقه البخاري في "صحيحه" (421) و (3165) بصيغة الجزم.
🧩 متابعات و شواہد: آیت کے استشہاد کے بغیر اس کی تائید حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جسے امام بخاری نے اپنی "صحیح" میں [نمبر (421) اور (3165)] صیغہ جزم (یقین) کے ساتھ معلقاً روایت کیا ہے۔
ولقول العباس في آخر هذا الحديث واستشهاده بالآية شواهد تقدم ذكرها عند الحديث (5496).
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے آخر میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے قول اور ان کے آیت سے استدلال کرنے کے شواہد موجود ہیں جن کا ذکر حدیث نمبر (5496) کے تحت گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5510 in Urdu