🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
466. وصية أبى ذر عند وفاته
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5541
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَربي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري، قال: أبو ذرٍّ جُندُب بن جُنادة، وقيل: بُرَير (4) بن جُنادة، تُوفّي بالرَّبذة سنة اثنتين وثلاثين، واختلفوا فيمن صلَّى عليه، فقيل: عبدُ الله بن مسعود، وقيل: جَرير بن عبد الله البَجَلي (1) .
مصعب بن عبداللہ زبیری نے ان کا نام ابوذر جندب بن جنادہ بیان کیا ہے۔ بعض مؤرخین نے یزید بن جنادہ بیان کیا ہے۔ 32 سن ہجری میں ربذہ میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی ہے اس بارے میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تھی اور بعض نے کہا ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5541]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5541 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يزيد، والمثبت بباء موحدة مضمومة ورائين، تصغير (بَر) هو الصواب، وذلك لأنه لا يُعرف في الخلاف في اسم أبي ذرٍّ ذِكر يزيد، إنما اختُلف في اسمه هل هو جُندب أو بُرَير، وهو ما اقتصر عليه الحاكم في كتابه "علوم الحديث" ص 225. وكذلك ضبطه ابن ماكولا في "الإكمال" 1/ 257، والذهبي في "المشتبه" ص 58.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "یزید" ہو گیا ہے۔ جو ہم نے ثابت کیا ہے وہ "بُرَير" (باء پر پیش اور دو راء کے ساتھ، جو بَر کی تصغیر ہے) ہے، اور یہی درست ہے۔ کیونکہ ابو ذر کے نام میں اختلاف میں "یزید" کا ذکر معروف نہیں ہے، بلکہ اختلاف اس میں ہے کہ آیا ان کا نام "جندب" ہے یا "بُریر"۔ حاکم نے اپنی کتاب "علوم الحدیث" (ص 225) میں صرف انہی دو ناموں پر اکتفا کیا ہے۔ اور ابن ماکولا نے "الاکمال" (1/ 257) میں اور ذہبی نے "المشتبہ" (ص 58) میں اسے اسی طرح ضبط (درست) کیا ہے۔
(1) قال ابن عبد البر في "الاستيعاب" (800): أكثر وأصح ما قيل فيه: جُندب بن جُنادة.
📖 حوالہ / مصدر: (1) ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (800) میں فرمایا: ان (ابو ذر) کے بارے میں اکثر اور صحیح ترین قول یہ ہے کہ ان کا نام "جندب بن جنادہ" ہے۔
قلنا: وممّن جزم بصلاة ابن مسعود على أبي ذرٍّ: إبراهيم بنُ المنذر وأبو الحسن المدائني وخليفةُ ابن خيّاط وابن سعد. انظر "تاريخ دمشق" لابن عساكر 66/ 175 و 222. وجاء ذلك في رواية متصلة تقدمت عند المصنف برقم (4421)، غير أنَّ إسنادها ضعيف. وستأتي رواية أخرى مطوَّلة في ذكر وفاته برقم (5559) ليس فيها ذكر ابن مسعود، وإسنادها حسن.
📖 حوالہ / مصدر: ہم کہتے ہیں: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ابو ذر کی نماز جنازہ پڑھانے پر جن لوگوں نے جزم (یقین) کیا ہے ان میں ابراہیم بن منذر، ابو الحسن مدائنی، خلیفہ بن خیاط اور ابن سعد شامل ہیں۔ دیکھیں "تاریخ دمشق" (66/ 175 اور 222)۔ یہ بات مصنف کے ہاں ایک متصل روایت میں بھی آئی ہے جو نمبر (4421) پر گزر چکی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ ان کی وفات کے ذکر میں ایک اور تفصیلی روایت نمبر (5559) پر آئے گی جس میں ابن مسعود کا ذکر نہیں ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔