المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
470. ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء على رجل أصدق لهجة من أبى ذر
آسمان نے کسی کو سایہ نہیں دیا اور زمین نے کسی کو اٹھایا نہیں جو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے زیادہ سچی زبان والا ہو
حدیث نمبر: 5550
أخبرنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزَني، حدثنا أحمد بن سلَمة، حدثنا العباس بن عبد العظيم العَنْبري، حدثنا النَّضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا أبو زُمَيل، عن مالك بن مَرثد، عن أبيه، عن أبي ذرٍّ، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما تُقِلُّ الغَبْراءُ، ولا تُظِلُّ الخَضْراء من ذِي لَهْجةٍ أصدقَ ولا أوفَى مِن أبي ذرٍّ، شَبيهِ عيسى ابن مريم"، فقام عمرُ بنُ الخطاب فقال: يا رسول الله، فنعرفُ ذلك له؟ قال:"نعم، فاعرِفُوه له" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن عبد الله بن عَمرو، وأبي الدَّرْداء. أما حديث عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5460 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن عبد الله بن عَمرو، وأبي الدَّرْداء. أما حديث عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5460 - على شرط مسلم
مالک بن مرثد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: زمین و آسمان نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر زیادہ سچے لہجے والا اور وعدہ وفائی کرنے والا شخص کبھی نہیں دیکھا، یہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے مشابہت رکھتے ہیں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم فضیلت سے ابوذر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم اس کو آگاہ کر دو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہی حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو اور ابوالدرداء سے بھی مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5550]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5550 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده محتمل للتحسين كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ سند پچھلی سند کی طرح حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3802)، وابن حبان (7132) من طريق العباس بن عبد العظيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3802) اور ابن حبان (7132) نے عباس بن عبدالعظیم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسنٌ غريب من هذا الوجه.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: "یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے"۔
وأخرجه ابن حبان (7135) من طريق أبي داود سليمان بن معبد السِّنْجي، عن النضر بن محمد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7135) نے ابو داود سلیمان بن معبد سنجی عن نضر بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له دون قصة عمر بن الخطاب حديثُ أبي هريرة عند ابن سعد في "الطبقات" 4/ 214، وابن أبي شيبة 12/ 125، والعقيلي في "الضعفاء الكبير" (1138)، وأبي نعيم في "معرفة الصحابة" (1555)، من طريقين عن أبي هريرة فيهما مَقالٌ، لكن يشدُّ أحدهما الآخر.
🧩 متابعات و شواہد: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قصے کے بغیر اس کی تائید ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو ابن سعد "الطبقات" (4/ 214)، ابن ابی شیبہ (12/ 125)، عقیلی "الضعفاء الکبیر" (1138) اور ابو نعیم "معرفۃ الصحابۃ" (1555) میں ہے۔ یہ ابو ہریرہ سے دو طریقوں سے مروی ہے جن میں کلام ہے، لیکن ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔
وشاهد آخرُ من مرسل مالك بن دينار عند ابن سعد 4/ 214 أنَّ النبي ﷺ قال: "أيكم يلقاني على الحال التي أفارقه عليها؟ " فقال أبو ذرّ: أنا، فقال له النبي ﷺ: "صدقت"، ثم قال: "ما أظلّتِ الخضراء، ولا أقلّتِ الغبراء على ذي لهجة أصدق من أبي ذر، من سرّه أن ينظر إلى زهد عيسى ابن مريم فلينظر إلى أبي ذرٍّ". ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: ایک اور شاہد مالک بن دینار کی مرسل روایت ہے جو ابن سعد (4/ 214) میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کون مجھ سے اس حال میں ملے گا جس پر میں اسے چھوڑ رہا ہوں؟" ابو ذر نے کہا: "میں"۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم نے سچ کہا"۔ پھر فرمایا: "آسمان کے سائے تلے اور زمین کی پشت پر ابو ذر سے زیادہ سچی زبان والا کوئی نہیں، جسے یہ بات اچھی لگے کہ وہ عیسیٰ ابن مریم کے زہد کو دیکھے تو وہ ابو ذر کو دیکھ لے۔" ⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں۔
وشاهد آخرُ من مرسل مالك بن دينار عند ابن سعد 4/ 214 أنَّ النبي ﷺ قال: "أيكم يلقاني على الحال التي أفارقه عليها؟ " فقال أبو ذرّ: أنا، فقال له النبي ﷺ: "صدقت"، ثم قال: "ما أظلّتِ الخضراء، ولا أقلّتِ الغبراء على ذي لهجة أصدق من أبي ذر، من سرّه أن ينظر إلى زهد عيسى ابن مريم فلينظر إلى أبي ذرٍّ". ورجاله ثقات. ولصدق لهجة أبي ذرٍّ الغفاري مفردةً شاهدان من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص وأبي الدرداء، وسيأتيان بعده.
🧩 متابعات و شواہد: (یہ وہی پچھلی روایت دوبارہ لکھی گئی ہے)۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو ذر غفاری کی سچی زبان کے بارے میں الگ سے دو شاہد حدیثیں عبد اللہ بن عمرو بن العاص اور ابو درداء رضی اللہ عنہم سے بھی ہیں، جو بعد میں آئیں گی۔
وثالث من حديث ابن عُمر سيأتي برقم (6414).
🧩 متابعات و شواہد: تیسرا شاہد ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے جو نمبر (6414) پر آئے گا۔
ورابع من حديث علي بن أبي طالب سيأتي برقم (8688). وأسانيد الأربعة ضعيفة.
🧩 متابعات و شواہد: چوتھا شاہد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے جو نمبر (8688) پر آئے گا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ان چاروں کی اسانید ضعیف ہیں۔
وخامس من مرسل محمد بن سيرين عند ابن سعد في "طبقاته" 4/ 214. ورجاله لا بأس بهم. فهي حسنةٌ بشواهدها.
🧩 متابعات و شواہد: پانچواں شاہد محمد بن سیرین کی مرسل روایت ہے جو ابن سعد "طبقات" (4/ 214) میں ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ "حسن" ہے۔
والخضراء: السماء والغَبْراء: الأرض.
📝 نوٹ / توضیح: "الخضراء": آسمان، اور "الغبراء": زمین۔