🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
470. ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء على رجل أصدق لهجة من أبى ذر
آسمان نے کسی کو سایہ نہیں دیا اور زمین نے کسی کو اٹھایا نہیں جو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے زیادہ سچی زبان والا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5549
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا عبد الله بن الرُّومي، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمّار، عن أبي زُمَيل سِماك بن الوليد، عن مالك بن مَرثَد، عن أبيه، عن أبي ذرٍّ، قال: كنت ربُعَ الإسلام: أسلمَ قبلي ثلاثةُ نفرٍ وأنا الرابعُ، أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: السلامُ عليك يا رسولَ الله، أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فرأيتُ الاستِبْشار في وجهِ رسول الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5459 - على شرط مسلم
سیدنا مالک بن مرثد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں چوتھے نمبر پر اسلام لانے والا ہوں کیونکہ مجھ سے پہلے تین لوگ اسلام لائے تھے اور میں چوتھا ہوں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہا: السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ (میرے اسلام قبول کرنے پر) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار دیکھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5549]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5549 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين من أجل مَرْثَد - وهو ابن عبد الله الزِّمَاني ويقال: الذِّماري - فهو وإن لم يرو عنه غير ابنه مالك، تابعيٌّ ذكره ابن حبان في "الثقات" وصحَّح حديثه، ووثقه العجلي، وحسَّن الترمذيُّ له حديثَين، وصحَّح له ابن خزيمة حديثًا.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ سند مرثد کی وجہ سے حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مرثد (ابن عبد اللہ زمانی یا ذماری): اگرچہ ان سے صرف ان کے بیٹے مالک نے روایت کی ہے، لیکن وہ تابعی ہیں، ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا اور ان کی حدیث کو صحیح کہا، عجلی نے ان کی توثیق کی، ترمذی نے ان کی دو حدیثیں حسن کہیں، اور ابن خزیمہ نے ان کی ایک حدیث صحیح قرار دی۔
وأخرجه ابن حبان (7134) عن أحمد بن الحسين بن عبد الجبار، عن عبد الله بن الرومي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7134) نے احمد بن حسین بن عبدالجبار عن عبد اللہ بن رومی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔