🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. إذا زنا العبد خرج منه الإيمان
جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
حدثنا بكر (3) بن محمد بن حمدان الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل. وحدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير ببغداد، حدثنا بشر بن موسى؛ قالا: حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثنا عبد الله بن الوليد، عن ابن حُجَيرةَ، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن زنى أو شرب الخمرَ، نَزَعَ اللهُ منه الإيمانَ كما يَخلَعُ الإنسانُ القميصَ من رأسه" (4) . قد احتجَّ مسلم بعبد الرحمن بن حُجَيرة وعبد الله بن الوليد، وهما شاميَّان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 57 - احتج مسلم بعبد الرحمن بن حجيرة وبعبد الله بن الوليد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زنا کیا یا شراب پی، اللہ اس سے ایمان (کا نور) اس طرح کھینچ لیتا ہے جیسے انسان اپنے سر سے قمیص اتارتا ہے۔
امام مسلم نے عبدالرحمن بن حجیرہ اور عبداللہ بن ولید سے احتجاج کیا ہے اور یہ دونوں شامی راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 57]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 57 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في المطبوع: أبو بكر، بزيادة "أبو" وهو خطأ، وكنيته: أبو أحمد. وانظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 15/ 554 - 555.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) مطبوعہ میں "ابو بکر" ("ابو" کے اضافے کے ساتھ) ہے جو غلطی ہے۔ ان کی کنیت "ابو احمد" ہے۔ تفصیل کے لیے "سیر اعلام النبلاء" (15/ 554-555) دیکھیں۔
(4) إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن الوليد: وهو التُّجيبي المصري، وليس كما قال المصنف: إنه شاميٌّ، فهذا وهمٌ منه فيه وفي عبد الرحمن بن حجيرة، فإنهما مِصريّان، والوهم الثاني زعمُه أنَّ مسلمًا احتجَّ بعبد الله بن الوليد، ولم يخرج له مسلم شيئًا. ¤ ¤ ويشهد له حديث مبارك بن حسان عن عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة رفعه، وفيه: "يخلع منه الإيمان كما يخلع سرباله، فإذا رجع إلى الإيمان رجع إليه"، أخرجه البزار (9287)، لكن مبارك بن حسان ضعيف منكر الحديث. والسِّربال: هو القميص.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) اس کی سند عبد اللہ بن الولید (التجیبی المصری) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کا یہ کہنا کہ وہ "شامی" ہے، ان کا وہم ہے (اسی طرح عبد الرحمٰن بن حجیرہ کے بارے میں بھی)، کیونکہ یہ دونوں مصری ہیں۔ دوسرا وہم یہ کہ امام مسلم نے عبد اللہ بن الولید سے حجت پکڑی ہے، حالانکہ مسلم نے ان سے کچھ تخریج نہیں کیا۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد مبارک بن حسان عن عطاء عن ابی ہریرہ کی مرفوع حدیث ہے جس میں ہے: "ایمان اس سے ایسے اتر جاتا ہے جیسے قمیض اترتی ہے..." (بزار: 9287)۔ لیکن مبارک بن حسان "ضعیف منکر الحدیث" ہے۔ "سربال" کا معنی قمیص ہے۔