🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
520. بيعة طلحة على يد أصحاب على رضى الله عنه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے ہاتھ پر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5701
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جدِّه عبد الله بن الزُّبير بن العَوّام قال: كان على النبيِّ ﷺ يومَ أحُدٍ دِرْعان (3) ، فنهَضَ إلى الصخْرة، فلم يَستطِعْ فقَعَد طلحةُ تحتَه حتى استوى على الصخرة، قال الزُّبير: فسمعتُ النبيّ ﷺ يقول:"أَوجَبَ طَلْحَةُ" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5602 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن زبیر بن عوام فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو زرہیں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی اس لئے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بیٹھ گئے تاکہ آپ ان کے سہارے سے چٹان پر چڑھ سکیں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا: طلحہ رضی اللہ عنہ نے جنت واجب کر لی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5701]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5701 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في (ز) و (ص) و (م): درعين، والجادَّة ما أثبتناه من سائر مصادر تخريج الخبر.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ز)، (ص) اور (م) میں "درعین" ہے، درست وہی ہے جو ہم نے خبر کی تخریج کے دیگر مصادر سے ثابت کیا ہے۔
(4) إسناده حسنٌ من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطّلبي مولاهم - وقد صرح بسماعه في مكرره السالف برقم (4358)، وهو الموافق لرواية البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 46، وفي "دلائل النبوة" 3/ 238 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد نفسِه.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) اس کی سند "حسن" ہے محمد بن اسحاق (ابن یسار المطلبی) کی وجہ سے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں نے اپنی مکرر روایت جو نمبر (4358) پر گزری ہے اس میں سماع کی تصریح کی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور یہ بیہقی کی "السنن الکبریٰ" 9/ 46 اور "دلائل النبوۃ" 3/ 238 کی روایت کے موافق ہے جو انہوں نے ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔