🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
520. بيعة طلحة على يد أصحاب على رضى الله عنه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے ہاتھ پر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5700
أخبرنا علي بن المُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا محمد بن يونس، حدثنا جَنْدَل بن والِقٍ، حدثنا محمد بن عُمر المازني، عن أبي عامر الأنصاري، عن ثَوْر بن مَجْزَأة، قال: مررتُ بطلحةَ بن عُبيد الله يوم الجَمَل وهو صريعٌ في آخر رَمَق، فوقفتُ عليه فرفع رأسَه، فقال: إني لأرى وجةَ رجلٍ كأنه القَمَر، ممَّن أنتَ؟ فقلت: من أصحاب أمير المؤمنين عليٍّ، فقال: ابسُطْ يدَك أُبايعْك، فبسطْتُ يدي وبايَعَني، ففاضَت نفسُه، فأتيتُ عليًّا فأخبرتُه بقولِ طَلْحةَ، فقال: اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ، صَدَق رسولُ الله ﷺ: أبى اللهُ أن يَدخُل طلحةُ الجنةَ، إلَّا وبَيعتَي في عُنُقِه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5601 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ثور بن مجزاۃ فرماتے ہیں: میں جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہے تھے، میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، انہوں نے کہا: مجھے اس آدمی کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح دکھائی دے رہا ہے، تمہارا تعلق کس گروہ سے ہے؟ میں نے کہا: میں امیرالمومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ انہوں نے کہا: اپنا ہاتھ بڑھاؤ، میں تمہاری بیعت کرتا ہوں۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے بیعت کر لی پھر ان کی روح قبض ہو گئی۔ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان کو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی بات سنائی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میری بیعت کے بغیر طلحہ رضی اللہ عنہ کو جنت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5700]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5700 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا كما قال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (14072)، محمد بن يونس - وهو القرشي الكُديمي - متروك الحديث، ومحمد بن عمر المازني وأبو عامر الأنصاري وثور بن مجزأة ثلاثتهم مجاهيل.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (14072) میں فرمایا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن یونس (القرشی الکدیمی) "متروک الحدیث" ہے، اور محمد بن عمر المازنی، ابو عامر الانصاری اور ثور بن مجزاۃ، یہ تینوں "مجاہیل" (نامعلوم) ہیں۔