🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
526. إنشاد حسان بن ثابت فى مدح طلحة
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی مدح میں اشعار پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5716
أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا عُمر بن محمد الأسَدِي، حدثنا أبي، حدثنا صالح بن موسى الطَّلْحي، عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: لما وَضَعتِ الحربُ أوزارَها افتخَر رسولُ الله ﷺ وطلحةُ ساكِتٌ، وسِماكُ بن خَرَشة أبو دُجَانةَ ساكِتٌ لا يَنطِقُ، فقال رسولُ الله ﷺ:"لقد رأيتُني يومَ أُحُدٍ وما في الأرض قُربي مَخلوقٌ غيرَ جبريلَ عن يَميني، وطلحةَ عن يَساري"، فقيل في ذلك شعرًا: وطلحةُ يومَ الشِّعْبِ آسَى مُحمّدًا … لَدَى ساعةٍ ضاقَت عليهم وشَدَّتِ وَقَاهُ بكَفَّيهِ الرَّماحَ فَقُطِّعَتْ … أصابعُه تحتَ الرِّماحِ فشَلَّتِ وكان إمامَ الناسِ بعدَ مُحمّدٍ … أقرَّ رَحَى الإسلام حتى استَقَرّتِ (1)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب جنگ ختم ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فخر کیا، اس وقت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ خاموش تھے، سیدنا ابودجانہ سماک بن حرب رضی اللہ عنہ بھی بالکل خاموش تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنگ احمد میں دیکھا ہے کہ پوری روئے زمین میں اللہ کی مخلوقات میں سے کوئی بھی میرے قریب نہ تھا سوائے سیدنا جبریل امین علیہ السلام کے، کہ وہ میرے دائیں جانب تھے، اور طلحہ میرے بائیں جانب تھے۔ درج ذیل شعر اسی سلسلہ میں ہے۔ اور جنگ احد کے دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے انتہائی پریشانی اور سختی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعاون کیا۔ انہوں نے آتے ہوئے تیروں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا اور تیروں کی وجہ سے آپ کے ہاتھ کی انگلیاں شل ہو گئیں۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں کے امام ہیں، انہوں نے اسلام کی چکی کو چلائے رکھا حتیٰ کہ وہ مضبوط ہو گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5716]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5716 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل صالح بن موسى الطَّلْحي - وهو ابن عبد الله بن إسحاق بن طلحة بن عُبيد الله - فهو متروك الحديث. وقد رُوي المرفوعُ من وجه آخر لكنه ضعيفٌ. عمر بن محمد الأسدي: هو ابن الحسن بن الزبير الأسدي، وسُهيل: هو ابن أبي صالح ذكوان السَّمّان.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند بہت زیادہ ضعیف (ضعیف جداً) ہے صالح بن موسیٰ الطلحی (ابن عبد اللہ بن اسحاق بن طلحہ بن عبید اللہ) کی وجہ سے، وہ "متروک الحدیث" ہے۔ اس کا مرفوع حصہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: عمر بن محمد الاسدی سے مراد "ابن الحسن بن الزبیر الاسدی" ہیں، اور سہیل سے مراد "ابن ابی صالح ذکوان السمان" ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (5816) من طريق القعقاع بن زكريا الطلحي، عن عبد الله بن إدريس، عن طلحة بن يحيى، عن عيسى بن طلحة، عن أبي هريرة، قال: تذاكرنا يوم أحد والنبي ﷺ قائم يصلي، فلما فرغ وانصرف من صلاته التفت إلينا، فقال … فذكر المرفوع دون الشعر ودون ذكر أبي دُجانة. والقعقاع بن زكريا هذا مجهول، وقد انفرد به من هذا الوجه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (5816) میں قعقاع بن زکریا الطلحی کے طریق سے، انہوں نے عبد اللہ بن ادریس سے، انہوں نے طلحہ بن یحییٰ سے، انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم غزوہ احد کا تذکرہ کر رہے تھے اور نبی ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ فارغ ہوئے اور نماز سے پھرے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا... پھر مرفوع حدیث ذکر کی بغیر شعر اور بغیر ابو دجانہ کے ذکر کے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ قعقاع بن زکریا مجہول ہے، اور وہ اس طریق سے منفرد ہے۔
وقد تقدَّم هذا الشِّعر ضمن رواية أخرى برقم (4357) من طريق سليمان بن أيوب، عن أبيه، عن جده، عن موسى بن طلحة، عن طلحة بن عُبيد الله: أنَّ حسان بن ثابت قالها في طلحة بعد يوم أُحُد. وإسناده ضعيف أيضًا.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ شعر ایک دوسری روایت کے ضمن میں نمبر (4357) پر گزر چکا ہے جو سلیمان بن ایوب کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے دادا سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے طلحہ بن عبید اللہ سے روایت کی ہے کہ حسان بن ثابت نے یہ اشعار احد کے دن کے بعد طلحہ کی شان میں کہے تھے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔