🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

526. إِنْشَادُ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ فِي مَدْحِ طَلْحَةَ
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی مدح میں اشعار پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5715
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيْري (3) ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن طَلْحة بن يحيى، حدثتني جدتي سُعْدى بنت عَوف المُرِّية، قالت: دخَلَ عليَّ طلحةُ، فوجدتُه مَغمُومًا، فقلت: ما لي أراك كالِحَ الوجْهِ؟ أَرابَك من أمْرِنا شيءٌ؟ قال: لا والله، ما رابَني من أمرِك شيءٌ، ولَنِعمَ الصاحبةُ أنتِ، ولكنّ مالًا اجتمع عندي، قالت: فابعثْ إلى أهلِ بيتك وقَومِك، فاقسِمْ فيهم، قالت: ففَعَل، فسألتُ الخازِنَ: كم قَسَم؟ فقال: أربعَ مئةِ ألفٍ، وكان غَلَّتَه كلَّ يومِ ألفٌ وافٍ. قال: وكان يُسمّى طلحةَ الفَيّاضَ (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سعدی بنت عوف المریہ کہتی ہیں: میرے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے، آپ بہت پریشان نظر آ رہے تھے، میں نے کہا: کیا وجہ ہے آج آپ کا چہرہ غمناک کیوں دکھائی دے رہا ہے؟ کیا ہمارے معاملات میں سے کسی میں تمہیں شک واقع ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، مجھے تمہارے کسی معاملہ میں شک نہیں ہے۔ اور آپ تو اچھی ساتھی ہو، (اصل بات یہ ہے کہ) میرے پاس کچھ جمع شدہ مال ہے، انہوں نے کہا: تم وہ اپنے گھر والوں اور اپنے خاندان والوں کے لئے بھیج دو اور ان میں تقسیم کرا دو، سعدی بنت عوف المریہ کہتی ہیں: انہوں نے ایسا ہی کیا، بعد میں، میں نے ان کے خازن سے پوچھا کہ جو مال تقسیم کیا گیا، وہ کتنا تھا؟ انہوں نے کہا: چار لاکھ۔ ان کی روزانہ کی آمدن ہزار درہم تھی۔ اور سیدنا طلحہ کو فیاض کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5715]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5716
أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا عُمر بن محمد الأسَدِي، حدثنا أبي، حدثنا صالح بن موسى الطَّلْحي، عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: لما وَضَعتِ الحربُ أوزارَها افتخَر رسولُ الله ﷺ وطلحةُ ساكِتٌ، وسِماكُ بن خَرَشة أبو دُجَانةَ ساكِتٌ لا يَنطِقُ، فقال رسولُ الله ﷺ:"لقد رأيتُني يومَ أُحُدٍ وما في الأرض قُربي مَخلوقٌ غيرَ جبريلَ عن يَميني، وطلحةَ عن يَساري"، فقيل في ذلك شعرًا: وطلحةُ يومَ الشِّعْبِ آسَى مُحمّدًا … لَدَى ساعةٍ ضاقَت عليهم وشَدَّتِ وَقَاهُ بكَفَّيهِ الرَّماحَ فَقُطِّعَتْ … أصابعُه تحتَ الرِّماحِ فشَلَّتِ وكان إمامَ الناسِ بعدَ مُحمّدٍ … أقرَّ رَحَى الإسلام حتى استَقَرّتِ (1)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب جنگ ختم ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فخر کیا، اس وقت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ خاموش تھے، سیدنا ابودجانہ سماک بن حرب رضی اللہ عنہ بھی بالکل خاموش تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنگ احمد میں دیکھا ہے کہ پوری روئے زمین میں اللہ کی مخلوقات میں سے کوئی بھی میرے قریب نہ تھا سوائے سیدنا جبریل امین علیہ السلام کے، کہ وہ میرے دائیں جانب تھے، اور طلحہ میرے بائیں جانب تھے۔ درج ذیل شعر اسی سلسلہ میں ہے۔ اور جنگ احد کے دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے انتہائی پریشانی اور سختی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعاون کیا۔ انہوں نے آتے ہوئے تیروں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا اور تیروں کی وجہ سے آپ کے ہاتھ کی انگلیاں شل ہو گئیں۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں کے امام ہیں، انہوں نے اسلام کی چکی کو چلائے رکھا حتیٰ کہ وہ مضبوط ہو گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5716]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5717
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسَدُ بن موسى، حدثنا سفيان بن عُيينة، قال: قال حَسّان بن ثابت في طلحةَ، وما حاشَى أحدًا: أقام إذْ أُسلِمَ النّبيُّ وإذْ … وَلَّى جَميعُ العِبادِ وانكَشَفُوا يَدفَعُ عن مُهجَةِ النّبيِّ وقدْ … دَنَا إليهِ العَدُوُّ وارتَدَفُوا مُضَمَّخٌ بالدِّماءِ مُهْجَتُهُ … خَشْيةَ إن قِيلَ: ثَأرَهُم، عَطَفُوا (1)
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: * جنگ احد کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے تمام لوگ بھاگ چکے تھے آپ اس نازک وقت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ * وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے رہے حالانکہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب تھا۔ اور آپ پر چڑھ دوڑا تھا۔ * ان کے جسم کا اکثر حصہ خون سے لتھڑا ہوا تھا اس بات کے ڈر سے کہ کہیں لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ ان کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5717]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں