🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
530. وصية حذيفة بن اليمان
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5729
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا مِسعَر بن كِدَام، عن عبد الملك بن مَيْسَرة، عن النّزّال بن سَبْرة، عن أبي مسعود الأنصاري، قال: أُغميَ على حُذيفةَ من أول الليل، ثم أفاقَ فقال: أيُّ الليلِ هذا؟ قلتُ: السَّحَرُ الأعلَى، قال: عائذٌ بالله من جَهَنَّم، مرتَين أو ثلاثًا، ثم قال: ابتاعُوا لي ثَوبَين فكفِّنُوني فيهما، ولا تُغْلُوا عَلَيَّ؛ فإن صاحِبَكم إن يُرْضَ عنه [أُلبِسَ] (1) خيرًا منهما، وإلَّا سُلِبَهُما سَلْبًا سريعًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5629 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پر رات کے پہلے پہر میں غشی طاری ہوئی، لیکن یہ غشی رات کے پچھلے پہر ختم ہو گئی، جب افاقہ ہوا تو انہوں نے وقت پوچھا، میں نے کہا: سحری کا وقت ہے۔ انہوں نے دو یا تین مرتبہ جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی پھر فرمایا: میرے لئے صرف دو کپڑے خرید کر اس میں مجھے کفن دے دینا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5729]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5729 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقطت هذه الكلمة من نسخنا الخطية، وأثبتناها من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان.
📝 نوٹ / توضیح: (1) یہ لفظ ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط ہو گیا تھا، ہم نے اسے نسخہ محمودیہ سے ثابت کیا ہے جیسا کہ میمن ایڈیشن میں ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن سعد 4/ 257، وأبو سليمان بن زَبْر الربَعي في "وصايا العلماء عند الموت" ص 53، ومن طريقه ابن عساكر 48/ 464 - 465 من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 4/ 257، ابو سلیمان بن زبر الریعی نے "وصایا العلماء عند الموت" ص 53، اور انہی کے طریق سے ابن عساکر 48/ 464 - 465 نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق (6211)، وابن أبي الدنيا في "المُحتضَرين" (168)، والرَّبعي ص 53، وابن عساكر 12/ 297 و 48/ 464 - 465 من طرق عن مسعر بن كدام به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (6211)، ابن ابی الدنیا نے "المحتضرین" (168)، ربعی ص 53، اور ابن عساکر 12/ 297 اور 48/ 464 - 465 نے مسعر بن کدام کے مختلف طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 4/ 257، والطبراني في "الكبير" (3008) من طريق شعبة، عن عبد الملك بن ميسرة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 4/ 257، اور طبرانی نے "الکبیر" (3008) میں شعبہ کے طریق سے، انہوں نے عبد الملک بن میسرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔