المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
544. حديث منازعة عمار وخالد بن الوليد ، وقضاء النبى وقول النبى : " من يبغض عمارا يبغضه الله "
سیدنا عمار اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کا بیان
حدیث نمبر: 5774
أخبرنا محمد بن صالح، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عُمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أبي، عن الحسن بن عُبيد الله، عن محمد بن شَدّاد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن الأشْتَر، قال: سمعت خالدَ بنَ الوليد يقول: بَعثَني رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة ومعي عمّارُ بن ياسر، فأصبْنا ناسًا منهم أهلُ بيتٍ قد ذَكَروا الإسلامَ، فقال عمار: إنَّ هؤلاء قد وَحَّدوا، فلم ألتفِتْ إلى قولِه، فأصابَهم ما أصابَ الناسَ، قال: فجعل عمارٌ يَتوعَّدُني؛ لو قد رأيتُ رسول الله ﷺ فأخبرتُه، فأتى النبيَّ ﷺ فأخبرَه، فلما رآهُ لا يَنصُره ولّى وعَيْناهُ تَدمَعان قال: فدعاني، فقال:"يا خالدُ، لا تَسُبَّ عمارًا، فإنه من يَسُبُّ عمارًا، يسُبُّه اللهُ، ومن يُبغِضُ عمارًا يُبغِضُه اللهُ، ومن يُسَفِّه عمارًا يُسفِّهُهُ اللهُ"، قال خالد: استغفِرْ لي يا رسولَ الله، فواللهِ ما مَنَعني أن أُجيبَه إلَّا تَسفِيهي إياهُ، قال خالدٌ: وما مِن شيءٍ أخوفَ عندي من تَسفِيهي عمارَ بن ياسر يومئذٍ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه مسعود بن سعد الجُعْفي ومحمد بن فُضَيل بن غَزْوانَ عن الحسن بن عُبيد الله النَّخَعي. أما حديث مسعود بن سعد:
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جنگی مہم پر بھیجا، میرے ہمراہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس مہم کے دوران ہم ایک گھر میں پہنچے جو کہ اسلام کا تذکرہ کرتے تھے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ توحید کو ماننے والے ہیں، لیکن میں نے ان کی بات کی جانب کوئی توجہ نہ دی اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا عمار مسلسل مجھے دھمکی دیتے رہے کہ میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ بات عرض کروں گا، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر پورا واقعہ سنایا، جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا تو وہ آبدیدہ ہو کر واپس لوٹ گئے، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے خالد! عمار کو گالی مت دو، کیونکہ جو شخص عمار کو گالی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو گالی کا بدلہ دیتا ہے اور جو عمار سے بغض رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بغض کا بدلہ دیتا ہے، جو عمار کو بے وقوف کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بے وقوف کہتا ہے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ خدا کی قسم! ان کا سامنا کرنے سے مجھے یہ بات روکتی ہے کہ میں نے ان کو بے وقوف سمجھا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دن میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بے وقوف سمجھا اس سے زیادہ مجھے کسی بات کا خوف نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا، اور اسی حدیث کو مسعود بن سعد جعفی نے اور محمد بن فضیل بن غزوان نے حسن بن عبیداللہ نخعی کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ (مسعود بن سعد کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5774]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5774 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة محمد بن شدّاد: وهو النخعي. وانظر ما تقدم برقم (5771).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ضعف کی وجہ محمد بن شداد (جو النخعی ہیں) کی جہالت ہے۔ اور وہ دیکھیں جو پیچھے نمبر (5771) پر گزر چکا ہے۔