🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
546. كان عمار أجاره الله من الشيطان على لسان نبيه
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شیطان سے پناہ عطا فرمائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5783
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يحيى بن حَكيم (3) ، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن خَيثَمة بن أبي سَبْرة الجُعْفي، قال: أتيتُ المدينة، فسألتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّر لي أبا هُريرة، فجلستُ إليه، قلتُ: إني سألتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّر لي أبا هريرة، فقال لي: ممَّن أنتَ؟ فقلت: من أرض الكُوفة، جئتُ ألتَمِسُ العلمَ والخيرَ، فقال: أليس فيكم سعدُ بنُ مالك مُجابُ الدَّعوة، وعبدُ الله بن مسعود صاحبُ طَهُور رسولِ الله ﷺ ونَعلَيه، وحذيفةُ بنُ اليَمَان صاحبُ سِرِّ رسول الله ﷺ، وعمارُ بنُ ياسر الذي أجارَه اللهُ من الشيطان على لِسان نَبيِّه ﷺ، وسلمانُ صاحبُ الكِتابَين، قال قَتَادة: والكتابان: الإنجيلُ والفُرقان (1) . صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5679 - الحديث صحيح
خیثمہ بن ابی سبرہ جعفی فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ مجھے کسی نیک آدمی کی صحبت عطا فرما، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قول فرمائی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحبت میسر آ گئی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کن لوگوں کے ساتھ ہے؟ میں نے کہا: میرا تعلق سرزمین کوفہ سے ہے، میں مدینہ منورہ میں علم اور بھلائی لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تمہارے ہاں مستجاب الدعوۃ (جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی اور نعلین شریف اٹھانے والے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ فرمان جاری ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان سے پناہ دے رکھی ہے، اور دو کتابوں (انجیل اور قرآن کریم) کا علم رکھنے والے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ موجود نہیں ہیں؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5783]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5783 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: حليم باللام.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "حلیم" (لام کے ساتھ) لکھا گیا ہے۔
(1) إسناده صحيح. يحيى بن حكيم: هو المُقوِّم الحافظ، وخيثمة بن أبي سَبْرة: هو خيثمة بن عبد الرحمن بن أبي سَبْرة، نُسب هنا لجده.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن حکیم سے مراد "المقوّم الحافظ" ہیں، اور خیثمہ بن ابی سبرہ سے مراد خیثمہ بن عبدالرحمن بن ابی سبرہ ہیں، یہاں انہیں ان کے دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (3811) عن الجَرّاح بن مخلد البصري، عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3811) نے جراح بن مخلد البصری کے واسطے سے معاذ بن ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال: حديث حسن صحيح غريب.
⚖️ درجۂ حدیث: اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح غریب" ہے۔
وقد تقدَّم نحوه برقم (5468) من حديث أبي الدرداء مختصرًا بذكر ابن مسعود وعمار وحذيفة.
📝 نوٹ / توضیح: اس جیسی روایت نمبر (5468) پر ابو درداء کی حدیث سے مختصراً گزر چکی ہے، جس میں ابن مسعود، عمار اور حذیفہ کا ذکر ہے۔