المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
546. كَانَ عَمَّارٌ أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شیطان سے پناہ عطا فرمائی
حدیث نمبر: 5782
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد (1) الدَّقّاق، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا وَهْب بن جَرير وأبو الوليد، عن شُعبة، عن عمرو بن مُرّة، قال: سمعتُ عبد الله بن سَلِمة يقول: رأيت عمارَ بنَ ياسر يومَ صفِّين شيخًا آدَمَ طُوالًا آخِذَ الحَرْبةِ بيدِه، ويدُه تُرعَدُ، قال: والذي نفسي بيدِه، لقد قاتَلتُ بهذه مع رسولِ الله ﷺ ثلاثَ مِرار، وهذه الرابعةُ، والذي نفسي بيده لو ضَربُونا حتى يَبلُغُوا بنا سَعَفاتِ هَجَر، لَعَرفنا أن مُصلِحِينا على الحقِّ، وأنهم على الضَّلالةِ (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن سلمہ فرماتے ہیں: میں نے جنگ صفین میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی زیارت کی، وہ طویل القامت شخص تھے، عموماً ہاتھ میں نیزہ رکھتے تھے، حالانکہ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں اسی نیزے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تین جنگیں لڑی ہیں اور یہ چوتھی جنگ ہے۔ اور اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ لوگ مجھے مار مار کر ہجر کی کھجوروں کی شاخوں میں جا کر لٹکا دیں تب بھی میں یہی سمجھوں گا کہ ہم لوگ حق پر ہیں اور وہ گمراہی پر ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5782]
حدیث نمبر: 5783
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يحيى بن حَكيم (3) ، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن خَيثَمة بن أبي سَبْرة الجُعْفي، قال: أتيتُ المدينة، فسألتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّر لي أبا هُريرة، فجلستُ إليه، قلتُ: إني سألتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّر لي أبا هريرة، فقال لي: ممَّن أنتَ؟ فقلت: من أرض الكُوفة، جئتُ ألتَمِسُ العلمَ والخيرَ، فقال: أليس فيكم سعدُ بنُ مالك مُجابُ الدَّعوة، وعبدُ الله بن مسعود صاحبُ طَهُور رسولِ الله ﷺ ونَعلَيه، وحذيفةُ بنُ اليَمَان صاحبُ سِرِّ رسول الله ﷺ، وعمارُ بنُ ياسر الذي أجارَه اللهُ من الشيطان على لِسان نَبيِّه ﷺ، وسلمانُ صاحبُ الكِتابَين، قال قَتَادة: والكتابان: الإنجيلُ والفُرقان (1) . صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5679 - الحديث صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5679 - الحديث صحيح
خیثمہ بن ابی سبرہ جعفی فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ مجھے کسی نیک آدمی کی صحبت عطا فرما، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قول فرمائی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحبت میسر آ گئی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کن لوگوں کے ساتھ ہے؟ میں نے کہا: میرا تعلق سرزمین کوفہ سے ہے، میں مدینہ منورہ میں علم اور بھلائی لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تمہارے ہاں مستجاب الدعوۃ (جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی اور نعلین شریف اٹھانے والے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ فرمان جاری ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان سے پناہ دے رکھی ہے، اور دو کتابوں (انجیل اور قرآن کریم) کا علم رکھنے والے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ موجود نہیں ہیں؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5783]