🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
557. نَزَلَتْ آيَةُ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ الْآيَةَ فِي صُهَيْبٍ
آیتِ کریمہ: "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی جان بیچ دیتا ہے" صہیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5805
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا إسماعيلُ بن إسحاقَ القاضي، حدثنا سليمانُ بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن عِكرمةَ قال: [لمّا] خرجَ صُهيبٌ مهاجرًا، تَبِعَه أهلُ مكةَ، فنَثَل كِنانتَه فأخرجَ منها أربعينَ سهمًا، فقال: لا تَصِلُون إليَّ حتى أضَعَ في كلِّ رجلٍ منكم سهمًا، ثم أَصِيرَ بعدُ إلى السَّيف، فتَعلَمُون أني رجلٌ، وقد خَلَّفتُ بمكةَ قَينتَين (3) فهَنْئًا لكم (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عکرمہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہجرت کے لیے نکلے تو اہل مکہ نے ان کا پیچھا کیا، انہوں نے اپنا ترکش جھاڑ کر چالیس تیر نکالے اور فرمایا: ”تم مجھ تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں تم میں سے ہر شخص کو ایک ایک تیر نہ مار لوں، اس کے بعد میں تلوار نکالوں گا تو تم جان لو گے کہ میں کیسا مردِ میدان ہوں، اور سنو میں نے مکہ میں دو لونڈیاں چھوڑی ہیں وہ ہنسی خوشی تمہاری ہوئیں“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5805]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه مرسل، فعكرمة تابعي، لكن الخبر مشهور مرويٌّ من وجوه غير أنَّ ذكر القَينَتين لم يَرِدْ إلّا في هذه الرواية، وجاء في غيرها ذكر المال مطلقًا.» [ترقيم الرساله 5805] [ترقيم الشركة 5750] [ترقيم العلميه 5700]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5805 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) لم تظهر الكلمة في (ز) و (ب)، ومكانها في (ص) بياض، وسقطت من (م)، وأثبتناها من "تلخيص المستدرك" للذهبي. والقَيْنَة: الأَمَةُ البيضاءُ؛ مُغنّية كانت أو غير مُغنِّية، وقيل: تختص بالمغنّية.
📝 نوٹ / توضیح: یہ لفظ نسخہ (ز) اور (ب) میں ظاہر نہیں ہوا، نسخہ (ص) میں اس کی جگہ خالی (بیاض) ہے، اور (م) سے گر گیا ہے۔ ہم نے اسے ذہبی کی "تلخیص المستدرک" سے ثابت کیا ہے۔ "القَینَہ" کا مطلب ہے: سفید فام لونڈی؛ خواہ وہ گانے والی ہو یا نہ ہو، اور بعض نے کہا کہ یہ خاص طور پر گانے والی لونڈی کے لیے بولا جاتا ہے۔
(4) رجاله ثقات، لكنه مرسل، فعكرمة تابعي، لكن الخبر مشهور مرويٌّ من وجوه غير أنَّ ذكر القَينَتين لم يَرِدْ إلّا في هذه الرواية، وجاء في غيرها ذكر المال مطلقًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے کیونکہ عکرمہ تابعي ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: البتہ یہ خبر مشہور ہے اور کئی دوسرے طرق سے مروی ہے، سوائے اس کے کہ "دو لونڈیوں" (القینتین) کا ذکر صرف اسی روایت میں آیا ہے، جبکہ دیگر روایات میں مطلق مال کا ذکر ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (5812). ويشهد له مرسل أبي عثمان النَّهدي عند ابن سعد 3/ 208، وأحمد في "فضائل الصحابة" (1509)، وابن حبان (7082)، وغيرهم بسند رجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: اور وہ دیکھیں جو آگے نمبر (5812) پر آئے گا۔ اس کی تائید ابو عثمان النہدی کی مرسل روایت سے ہوتی ہے جو ابن سعد (3/ 208)، احمد کی "فضائل الصحابة" (1509) اور ابن حبان (7082) وغیرہ میں ایسی سند کے ساتھ ہے جس کے رجال ثقہ ہیں۔
قوله: نَثَل كِنانته، أي: استخرج السِّهام من الجَعْبة.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "نَثَل کِنَانَتَہ" کا مطلب ہے: اس نے اپنے ترکش سے تیر نکالے۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5805M
قال: وحدثنا حمّاد بن سَلَمة بن عن ثابت، عن أنس، نحوه، ونزلتْ على النبيِّ ﷺ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ الآية [البقرة: 207] ، فلما رآهُ النبيُّ ﷺ قال:"أبا يحيى، ربحَ البيعُ"، قال: وتَلَا عليه الآيةَ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صہیب کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ ”اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے“ [سورة البقرة: 207] ، پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”اے ابو یحییٰ! تمہاری تجارت نفع بخش رہی“، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ آیت سنائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5805M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5805M] [ترقيم الشركة 5750/1]


Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5805 in Urdu