🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

557. نَزَلَتْ آيَةُ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ الْآيَةَ فِي صُهَيْبٍ
آیتِ کریمہ: "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی جان بیچ دیتا ہے" صہیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5804
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، أخبرنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: صُهيبٌ يُكنى أبا يحيى، وهو صهيبُ بن سِنانٍ النَّمَري، من النَّمِر بن قاسِطٍ، وكان أصابَه سَبيٌ فوَقَع بأرضِ الرُّوم، فقيل: صُهيب الرُّوميّ، بلغ سبعينَ سنةً، وكان يَخضِب بالحِنّاء، مات بالمدينة في شوال سنة ثمانٍ وثلاثين، ودُفِن بالبَقيع.
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: صہیب کی کنیت ابویحیی تھی یہ صہیب بن سنان نمری ہیں، نمر بن قاسط کی اولادوں میں سے ہیں۔ یہ قیدی ہو کر ملک روم میں چلے گئے تھے، اسی لئے ان کو صہیب رومی بھی کہا جاتا ہے، ان کی عمر 70 برس تھی، آپ داڑھی شریف کو مہندی لگایا کرتے تھے، آپ ماہ شوال المکرم میں سن 38 ہجری میں مدینہ شریف میں فوت ہوئے اور ان کو بقیع مبارک میں دفن کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5804]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5805
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا إسماعيلُ بن إسحاقَ القاضي، حدثنا سليمانُ بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن عِكرمةَ قال: [لمّا] خرجَ صُهيبٌ مهاجرًا، تَبِعَه أهلُ مكةَ، فنَثَل كِنانتَه فأخرجَ منها أربعينَ سهمًا، فقال: لا تَصِلُون إليَّ حتى أضَعَ في كلِّ رجلٍ منكم سهمًا، ثم أَصِيرَ بعدُ إلى السَّيف، فتَعلَمُون أني رجلٌ، وقد خَلَّفتُ بمكةَ قَينتَين (3) فهَنْئًا لكم (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عکرمہ کہتے ہیں: جب سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے مکہ سے نکلے، تو اہل مکہ نے ان کا پیچھا کیا، انہوں نے اپنا ترکش خالی کر دیا، اس میں سے چالیس تیر نکالے۔ پھر فرمایا: تم مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرو گے تو میں تم میں سے ہر ایک کے سینے میں ایک ایک تیر پیوست کر دوں گا، پھر اس کے بعد میں شمشیرزنی کروں گا، تب تم مجھے جانو گے کہ میں (کیسا بہادر اور دلیر) مرد ہوں۔ میں نے مکہ میں اپنے پیچھے دو لونڈیاں چھوڑی ہیں، وہ تمہارے لئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5805]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5805M
قال: وحدثنا حمّاد بن سَلَمة بن عن ثابت، عن أنس، نحوه، ونزلتْ على النبيِّ ﷺ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ الآية [البقرة: 207] ، فلما رآهُ النبيُّ ﷺ قال:"أبا يحيى، ربحَ البيعُ"، قال: وتَلَا عليه الآيةَ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مذکورہ حدیث جیسی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی وَمَنِ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ (البقرۃ: 207) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ابویحیی کو بیع نے نفع دیا ہے پھر یہ آیت پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5805M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5806
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثني أبي، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب، عن أبيه، قال قال عمرُ بن الخطاب لصُهيب: ما وَجَدتُ عليك في الإسلام إلَّا ثلاثةً: اكتَنَيتَ أبا يحيى، وقال الله ﷿: ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [مريم:7] ، قال: إيْهٍ، قال: وإنك لا تُمسِك شيئًا إلَّا أنفقتَه قال: إيْهٍ، قال: وإنك تُدعَى إلى النَّمِر بن قاسِط، وأنت من المُهاجِرين ممَّن أنعَمَ الله عليه. فقال صهيبٌ: أمَّا ما (1) تَكنَّيتُ أبا يحيى، فإنَّ رسول الله ﷺ كَنّاني أبا يحيى، وأما ما تقُول أني لا أُمسك شيئًا إلَّا أنفقتُه، فإنَّ الله تعالى يقول: ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ [سبأ: 39] ، وأما ما تقولُ أني أُدعَى إلى النَّمِر بن قاسِط، فإنَّ العربَ تَسْبي بعضُها بعضًا، فَسَبَانِي طائفةٌ من العَرب بعد أن عَرفتُ أهلي ومَولِدي، فباعُوني بسَوادِ الكوفة، فأخذتُ لِسانَهم، ولو كنتُ من رَوْثةٍ ما انتسبتُ إلَّا إليها، قال: صدقتَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5701 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں نے اسلام میں تیرے اندر تین خاص چیزیں پائی ہیں۔ نمبر (1) تم نے اپنی کنیت ابویحیی رکھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا} [مريم: 7] ہم نے اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا نمبر (2) تمہارے پاس کوئی بھی چیز آتی ہے تو تم اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہو۔ نمبر (3) تم اپنے آپ کو نمر بن قاسط کی جانب منسوب کرتے ہو حالانکہ تم ان مہاجرین میں سے ہو جن کے اوپر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا ہے۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: (1) میری کنیت ابویحیی اس لئے ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحیی رکھی تھی۔ (2) یہ بات کہ میں کوئی چیز روک کر نہیں رکھتا ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ} [سبأ: 39] اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا (امام احمد رضا) (3) یہ بات کہ میں اپنے آپ کو نمر بن قاسط کی طرف منسوب کیوں کرتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ ایک دوسرے کو قیدی بنا لیتے تھے، مجھے بھی عرب کے ایک گروہ نے قیدی بنا لیا تھا حالانکہ میں اپنے گھر والوں اور جائے پیدائش کو بھی جانتا ہوں۔ انہوں نے مجھے کوفہ میں بیچ دیا اس لئے میں نے انہی کی زبان سیکھ لی، اگر میں روثہ قبیلے سے ہوتا تو ان کی جانب منسوب ہوتا۔ انہوں نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5806]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5807
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا علي بن عبد الحميد بن زياد بن صَيفِيّ [عن أبيه] (1) عن جدِّه، عن صُهيب بن سِنان، قال: ما جعلتُ رسولَ الله ﷺ بيني وبين العدُوّ، وما كنتُ إِلَّا عن يَمينِه أو أَمامَه أو عن شِماله (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5702 - صحيح
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی اپنے اور دشمن کے درمیان نہیں رکھا بلکہ میں ہمیشہ آپ کے دائیں، یا آگے یا بائیں جانب ہوا کرتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5807]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں