المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
573. مات سهل بن حنيف بالكوفة
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کا کوفہ میں انتقال ہوا
حدیث نمبر: 5839
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهَاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثنا موسى بن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبيه وعبد الله بن جعفر، عن ابن أبي عَون، وسعد بن إبراهيم ومحمد بن صالح، عن عاصم بن عمر، في مُؤاخاةِ رسولِ الله ﷺ بين المهاجرين والأنصار من بني هاشم: عليُّ بن أبي طالب وسَهْل بن حُنيف ﵄ (1) .
عاصم بن عمر کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا تو بنی ہاشم میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5839]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5839 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 21 عن محمد بن عمر - وهو الواقدي - بالأسانيد الثلاثة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 21) میں محمد بن عمر الواقدی سے تینوں اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد ذكر ابن إسحاق ما يخالف هذا في شأن المؤاخاة، وأنَّ المؤاخاة كانت بين النبي ﷺ وبين علي بن أبي طالب كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 505، وأنَّ رسول الله ﷺ أخذ بيد علي بن أبي طالب، فقال: هذا أخي.
📌 اہم نکتہ: ابن اسحاق نے مواخات (بھائی چارے) کے بارے میں اس کے خلاف بات ذکر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مواخات خود نبی ﷺ اور علی بن ابی طالب کے درمیان ہوئی تھی، جیسا کہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 505) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: "یہ میرا بھائی ہے۔"
وفي حديث علي بن أبي طالب الذي تقدَّم برقم (4685) قال: والله إني لأخُوه ووليُّه وابن عمّه. وإسناده فيه لِينٌ.
📖 حوالہ / مصدر: اور علی بن ابی طالب کی حدیث جو پیچھے نمبر (4685) پر گزر چکی ہے، اس میں انہوں نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں ان (نبی ﷺ) کا بھائی، ولی اور چچا زاد ہوں۔" اس کی سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے۔
حدیث نمبر: 5839M
قال ابن عُمر: وشَهِدَ سَهْل بن حنُيف بدرًا وأُحدًا، وثَبت مع رسول الله ﷺ يوم أُحد حين انكشفَ الناسُ عنه، وبايعه على الموت، وجعل يَنضَحُ يومئذ بالنَّبْل عن رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"نَبِّلُوا سهلًا، فإنه سهلٌ". قال: وشهدَ أيضًا الخندقَ والمَشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وشهد مع علي بن أبي طالب صِفِّينَ (2) .
سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر اور جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی ہے، اور جنگ احد کے دن جب دوسرے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تھے اس وقت یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدم رہے تھے۔ انہوں نے موت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، اور جنگ احد کے دن تیروں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سہل کو تیر دو کہ یہ احسن انداز میں تیر اندازی کرتا ہے، انہوں نے غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شراکت کی۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ صفین میں بھی شرکت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5839M]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5839M پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ذكر الواقدي في "مغازيه" 1/ 253 قصة سهل بن حنيف يوم أُحُد وقول النبي ﷺ يومئذٍ "نبِّلو سهلًا … " مُصدِّرًا ذلك بقوله: قالوا وهذا يعني أنه رواه عن رجاله الذين تقدَّم ذكرهم في خبر المؤاخاة قبله.
📖 حوالہ / مصدر: واقدی نے "المغازی" (1/ 253) میں غزوہ احد کے دن سہل بن حنیف کا قصہ اور نبی ﷺ کا یہ فرمان: "سہل کو تیر دو..." ذکر کیا ہے، اور اس کی شروعات "قالوا" (راویوں نے کہا) سے کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے اسے ان رجال سے روایت کیا ہے جن کا ذکر اس سے پہلے مواخات کی خبر میں گزر چکا ہے۔
ووقع عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 437 جميع ما جاء هنا من قوله هو مصدِّرًا ذلك بقوله: قالوا: وآخي رسول الله ﷺ بين سهل بن حنيف وعلي بن أبي طالب، شهد سهل بدرًا وأحدًا …
📖 حوالہ / مصدر: ابن سعد کی "الطبقات" (3/ 437) میں یہ سارا بیان موجود ہے اور اس کا آغاز یوں ہوتا ہے: "راویوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سہل بن حنیف اور علی بن ابی طالب کے درمیان بھائی چارہ کرایا، سہل بدر اور احد میں شریک ہوئے..."