🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
574. تَأْدِيبُ النَّبِيِّ لِمَنْ يَرَى نَفْسَهُ أَفْضَلَ
اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے والے کی نبی ﷺ کی طرف سے تربیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5843
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم المصري، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكرمةَ، عن ابن عباس، قال: دخَل عليٌّ بسَيفِه على فاطمةَ وهي تَغسِل الدمَ عن وجهِ رسول الله ﷺ، فقال: خُذِيه، فلقد أحسنتُ به القِتالَ، فقال رسول الله ﷺ:"إن كنتَ قد أحسنتَ القتالَ اليومَ، فلقد أحسنَ سهلُ بن حُنيف، وعاصمُ بن ثابت، والحارثُ بن الصِّمَّة، وأبو دُجانةَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وفيه تأديبٌ لمن يَمُنُّ على مَن هو أفضلُ منه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں، آپ نے فرمایا: اسے پکڑو، آج میں نے اس کے ذریعے بہت اچھی جنگ کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے آج اچھی جنگ کی ہے تو بیشک سہل بن حنیف، عاصم بن ثابت، حارث بن صمہ اور ابو دجانہ (رضی اللہ عنہم) نے بھی بہت عمدہ قتال کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو اپنے سے افضل ہستیوں پر فخر یا احسان جتاتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5843]
تخریج الحدیث: «حسنٌ لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف في وصله وإرساله، كما تقدَّم بيانه برقم (4355). إسحاق بن إبراهيم المصري: هو ابن يونس المعروف بالمنجنيقي الورّاق.» [ترقيم الرساله 5843] [ترقيم الشركة 5788]

الحكم على الحديث: حسنٌ لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5843 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسنٌ لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف في وصله وإرساله، كما تقدَّم بيانه برقم (4355). إسحاق بن إبراهيم المصري: هو ابن يونس المعروف بالمنجنيقي الورّاق.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: موجودہ سند کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس کے "موصول" اور "مرسل" ہونے میں اختلاف ہے، جیسا کہ نمبر (4355) پر بیان ہو چکا۔ اسحاق بن ابراہیم المصری سے مراد ابن یونس ہیں جو "المنجنیقی الوراق" کے نام سے مشہور ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5843 in Urdu