🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
574. تأديب النبى لمن يرى نفسه أفضل
اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے والے کی نبی ﷺ کی طرف سے تربیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5844
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم المصري، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: دخَل عليٌّ على فاطمةَ وهي تَغسِل الدمَ عن وجهِ رسول الله ﷺ، فذكَر الحديثَ كما أملَيتُه (1) سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول: لم نَكتبُه موصولًا إلَّا عن أبي يعقوبَ بإسناده، والمشهورُ من حديثِ ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة مرسلًا، وإنما يُعرَف هذا المتنُ من حديث أبي مَعشَرٍ، عن أيوبَ بن أبي أُمامة بن سهل، عن أبيه، عن جدِّه:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دھو رہی تھیں۔ اس کے بعد سابقہ حدیث کی طرح پوری حدیث بیان کی۔ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابویعقوب کی اسناد کے ہمراہ موصولاً روایت کیا ہے جبکہ یہ حدیث ابن عیینہ کی عمرو بن دینار پھر عکرمہ کی اسناد کے ہمراہ مرسلاً مشہور ہے۔ اور یہ متن ابومعشر سے پھر ایوب بن ابی امامہ بن سہل سے، پھر ان کے والد سے پھر ان کے دادا کی روایت کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5844]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5844 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهو مكرر سابقه، ولم يظهر لنا سببُ تكراره له، اللهم إلّا أن يكون أراد تقييد شيخه أبي عليٍّ بتسميته باسمه في هذه الطريق، لئلا يلتبس بشيخه الآخر أبي علي الحَسَن بن علي بن داود المصري، ولا سيما أنَّ الرواية هنا عن إسحاق بن إبراهيم المصري، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے اور پچھلی روایت کی تکرار ہے۔ ہمیں اس تکرار کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آئی، سوائے اس کے کہ شاید مصنف نے اس سند میں اپنے شیخ "ابو علی" کا پورا نام ذکر کر کے ان کا تعین کرنا چاہا ہو، تاکہ ان کے دوسرے شیخ "ابو علی الحسن بن علی بن داود المصری" کے ساتھ التباس نہ ہو، خاص طور پر چونکہ یہاں روایت اسحاق بن ابراہیم المصری سے ہے۔ واللہ اعلم۔