🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

574. تَأْدِيبُ النَّبِيِّ لِمَنْ يَرَى نَفْسَهُ أَفْضَلَ
اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے والے کی نبی ﷺ کی طرف سے تربیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5842
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدثني محمد بن يحيى بن زكريا الحِمْيَري (2) ، حدثنا العلاء بن كَثير، حدثني أبو بكر بن عبد الرحمن بن المِسْور بن مَخْرمة، حدثني أبو أُمامة بن سَهْل، قال: قال لي أبي: يا بُنيّ، لقد رأيتُنا يومَ بدر، وإنَّ أحدَنا يُشِيرُ بسيفِه إلى رأسِ المُشرك، فيَقَعُ رأسه عن جَسدِه قبل أن يَصِلَ إليه (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5736 - صحيح على شرط البخاري
ابوامامہ بن سہل فرماتے ہیں: میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ جنگ بدر کے دن ہم نے عجیب واقعات دیکھے، ہم مشرک کو قتل کرنے کے لئے اس کی جانب تلوار بڑھاتے تھے، ابھی تلوار اس تک پہنچتی نہ تھی کہ اس کا سر پہلے ہی کٹ جاتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5842]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5843
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم المصري، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكرمةَ، عن ابن عباس، قال: دخَل عليٌّ بسَيفِه على فاطمةَ وهي تَغسِل الدمَ عن وجهِ رسول الله ﷺ، فقال: خُذِيه، فلقد أحسنتُ به القِتالَ، فقال رسول الله ﷺ:"إن كنتَ قد أحسنتَ القتالَ اليومَ، فلقد أحسنَ سهلُ بن حُنيف، وعاصمُ بن ثابت، والحارثُ بن الصِّمَّة، وأبو دُجانةَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وفيه تأديبٌ لمن يَمُنُّ على مَن هو أفضلُ منه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے خون دھو رہی تھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تھماتے ہوئے فرمایا: اس کو پکڑو میں نے آج اس کے ساتھ بہت خوب جنگ کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے بہت خوب جنگ کی ہے تو (پھر کیا ہوا) آج سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ، عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ، حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ اور ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے بھی جنگ کے زبردست جوہر دکھائے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے راہنمائی موجود ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا سہل سے افضل قرار دیتے ہیں۔ (نوٹ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جزوی فضیلت سے ہرگز انکار نہیں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی دوسرے صحابی کو جزوی فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی۔) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5843]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5844
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم المصري، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: دخَل عليٌّ على فاطمةَ وهي تَغسِل الدمَ عن وجهِ رسول الله ﷺ، فذكَر الحديثَ كما أملَيتُه (1) سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول: لم نَكتبُه موصولًا إلَّا عن أبي يعقوبَ بإسناده، والمشهورُ من حديثِ ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة مرسلًا، وإنما يُعرَف هذا المتنُ من حديث أبي مَعشَرٍ، عن أيوبَ بن أبي أُمامة بن سهل، عن أبيه، عن جدِّه:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دھو رہی تھیں۔ اس کے بعد سابقہ حدیث کی طرح پوری حدیث بیان کی۔ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابویعقوب کی اسناد کے ہمراہ موصولاً روایت کیا ہے جبکہ یہ حدیث ابن عیینہ کی عمرو بن دینار پھر عکرمہ کی اسناد کے ہمراہ مرسلاً مشہور ہے۔ اور یہ متن ابومعشر سے پھر ایوب بن ابی امامہ بن سہل سے، پھر ان کے والد سے پھر ان کے دادا کی روایت کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5844]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5845
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوبَ الثَّقَفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا أبو مَعْشَر، عن أيوب بن أبي أمامة بن سَهْل بن حُنيف، عن أبيه، عن سهل بن حُنيف، قال: جاء عليٌّ إلى فاطمةَ يومَ أحُدٍ، فقال: أمسِكي سيَفي هذا، فلقد أحسنتُ به الضَّربَ اليومَ، فقال رسول الله ﷺ:"إن كنتَ أحسنتَ به القِتالَ، فقد أحسنَه عاصمُ بن ثابت، وسَهلُ بن حُنيف، والحارثُ بن الصِّمَّة" (2) .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: میری یہ تلوار پکڑو، میں نے آج اس تلوار کے ساتھ بہت خوب لڑائی کی ہے۔ تم ایسا کرو کہ اس کو اچھی طرح دھو ڈالو، آج میں نے اس کے ساتھ بہت خوب لڑائی کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کے ساتھ بہت اچھی لڑائی کی ہے تو عاصم بن ثابت، سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہم نے بھی بہت خوب لڑائی کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5845]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں