المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
579. عبد الله بن سلام كان من أخيار علماء بني إسرائيل
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بنی اسرائیل کے بہترین علماء میں سے تھے
حدیث نمبر: 5860
سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوْري يقول: سمعتُ يحيى بن مَعِين يقول: اسمُ عبدِ الله بن سَلَامٍ الحُصَينُ، فسمّاه رسولُ الله ﷺ عبدَ الله (2) .
یحیی بن معین فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن سلام کا نام ” حصین “ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ” عبداللہ “ رکھ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5860]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5860 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وأخرجه الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 2/ 547، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 29/ 104 من طريق المفضَّل بن غسان الغلابي، عن يحيى بن معين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (2/ 547) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (29/ 104) میں مفضل بن غسان الغلابی کے طریق سے یحییٰ بن معین سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 39/ (23782)، وابن ماجه (3734)، والترمذي (3256) و (3803) من طريق ابن أخي عبد الله بن سَلَام، عن عبد الله بن سَلام، قال: قدمتُ على رسول الله ﷺ وليس اسمي عبدَ الله بن سَلَام، فسماني رسولُ الله ﷺ عبدَ الله بنَ سَلام. وإسناده ليِّن لجهالة ابن أخي عبد الله بن سلام.
📖 حوالہ / مصدر: احمد (39/ 23782)، ابن ماجہ (3734) اور ترمذی (3256 اور 3803) نے عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کے طریق سے، عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے کہ: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میرا نام عبداللہ بن سلام نہیں تھا، رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ بن سلام رکھا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کی جہالت کی وجہ سے "لیّن" (کمزور) ہے۔
وانظر "سيرة ابن هشام" 1/ 516 - 517، و "تاريخ دمشق" لابن عساكر 29/ 99 - 104.
📖 حوالہ / مصدر: دیکھیں: "سیرت ابن ہشام" (1/ 516-517) اور "تاریخ دمشق" ابن عساکر (29/ 99-104)۔