🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
579. عبد الله بن سلام كان من أخيار علماء بني إسرائيل
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بنی اسرائیل کے بہترین علماء میں سے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5860
سمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوْري يقول: سمعتُ يحيى بن مَعِين يقول: اسمُ عبدِ الله بن سَلَامٍ الحُصَينُ، فسمّاه رسولُ الله ﷺ عبدَ الله (2) .
یحیی بن معین فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن سلام کا نام حصین تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5860]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5860 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وأخرجه الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 2/ 547، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 29/ 104 من طريق المفضَّل بن غسان الغلابي، عن يحيى بن معين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (2/ 547) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (29/ 104) میں مفضل بن غسان الغلابی کے طریق سے یحییٰ بن معین سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 39/ (23782)، وابن ماجه (3734)، والترمذي (3256) و (3803) من طريق ابن أخي عبد الله بن سَلَام، عن عبد الله بن سَلام، قال: قدمتُ على رسول الله ﷺ وليس اسمي عبدَ الله بن سَلَام، فسماني رسولُ الله ﷺ عبدَ الله بنَ سَلام. وإسناده ليِّن لجهالة ابن أخي عبد الله بن سلام.
📖 حوالہ / مصدر: احمد (39/ 23782)، ابن ماجہ (3734) اور ترمذی (3256 اور 3803) نے عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کے طریق سے، عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے کہ: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میرا نام عبداللہ بن سلام نہیں تھا، رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ بن سلام رکھا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن سلام کے بھتیجے کی جہالت کی وجہ سے "لیّن" (کمزور) ہے۔
وانظر "سيرة ابن هشام" 1/ 516 - 517، و "تاريخ دمشق" لابن عساكر 29/ 99 - 104.
📖 حوالہ / مصدر: دیکھیں: "سیرت ابن ہشام" (1/ 516-517) اور "تاریخ دمشق" ابن عساکر (29/ 99-104)۔