🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
602. قِصَّةُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ بِيَدِ مُعَاذِ بْنِ عَمْرٍو
سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ابو جہل کے قتل کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5912
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي. وحدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل - واللفظُ له - حدثنا أبو المُثنّى العَنْبري؛ قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا يوسف بن الماجِشُون، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن أبيه، عن جده، قال: بينما أنا واقفٌ في الصفّ يومَ بدر، فنظرتُ عن يميني وشِمالي، فإذا أنا بين غُلامين من الأنصار حديثةٌ أسنانُهما، تَمنَّيتُ أن أكونَ بين أَضْلَعَ منهما، فغَمَزَني أحدهما، فقال: يا عَمّاهُ، هل تَعرفُ أبا جَهْل؟ قلت: نعم، وما حاجتُك إليه يا ابن أخي؟ قال: أُخبرتُ أنه يسُبُّ رسولَ الله ﷺ، والذي نفسي بيدِه، لئن رأيتُه لا يُفارِقُ سَوادِي سَوادَه حتى يموت الأعجلُ منا، وتعجبَّتُ لذلك، فغَمَزَنِي الآخرُ فقال لي مثلَها، فلم أنشَبْ أن نظرتُ إلى أبي جهل يَدُور في الناس، فقلتُ لهما: ألا إِنَّ هذا صاحبُكما الذي تَسألانِ عنه، فابتدَراهُ بسَيفَيهما فضرباه حتى قَتَلاهُ، ثم انصرفا إلى رسول الله ﷺ، فأخبراه، فقال:"أَيُّكما قَتلَه؟" فقال كل واحد منهما: أنا قتلتُه، فقال:"هل مَسحتُما سَيفَيكُما؟" قالا: لا، فنظر في السَّيفَين، فقال:"كِلاكُما قتلَه"، فقَضَى بسَلَبِه لمعاذ بن عمرو بن الجَمُوح، وكانا معاذَ بنَ عَفْراء ومعاذَ بن عَمرو بن الجموح (1) . فأما أخُوه خَلّاد بن عَمرو بن الجَمُوح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5796 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوۂ بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں اور بائیں جانب دیکھا تو میں انصار کے دو نوجوان لڑکوں کے درمیان تھا جن کی عمریں بہت کم تھیں، میں نے تمنا کی کہ کاش میں ان سے زیادہ مضبوط اور توانا لوگوں کے درمیان ہوتا، اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے کہنی ماری اور پوچھا: اے چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، لیکن بھتیجے تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم میں سے وہ مر جائے جس کی موت پہلے لکھی ہے، مجھے اس کی اس بات پر سخت حیرت ہوئی، پھر دوسرے لڑکے نے بھی مجھے اسی طرح اشارہ کر کے یہی بات کہی، ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ میں نے ابوجہل کو دیکھا جو لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا، میں نے ان دونوں سے کہا: دیکھو! یہ ہے تمہارا وہ مطلوبہ شخص جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے، یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں سونت کر اس پر جھپٹ پڑے اور اسے ضربات لگا کر قتل کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعے کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ ان میں سے ہر ایک نے دعویٰ کیا کہ میں نے اسے قتل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کا معائنہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: تم دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے جنگی سامان (سلب) کا فیصلہ سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے حق میں فرما دیا، اور وہ دونوں معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5912]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أبو المثنَّى: هو معاذ بن المُثنَّى، ويوسف بن الماجِشون: هو يوسف بن يعقوب بن أبي سلمة.» [ترقيم الرساله 5912] [ترقيم الشركة 5848] [ترقيم العلميه 5796]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح أبو المثنَّى: هو معاذ بن المُثنَّى

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5912 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح أبو المثنَّى: هو معاذ بن المُثنَّى، ويوسف بن الماجِشون: هو يوسف بن يعقوب بن أبي سلمة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن المثنیٰ، اور یوسف بن الماجشون سے مراد یوسف بن یعقوب بن ابی سلمہ ہیں۔
وأخرجه البخاري (3141) عن مسدَّد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3141) نے مسدد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1673)، وأخرجه مسلم (1752) وابن حبان (4840) من طريق يحيى بن يحيى التميمي، كلاهما (أحمد بن حنبل ويحيى التميمي) عن يوسف بن الماجشون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1673) نے، اور مسلم (1752) اور ابن حبان (4840) نے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (احمد اور یحییٰ) یوسف بن الماجشون سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه البخاري مختصرًا (3988) من طريق إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن جده، عن عبد الرحمن بن عوف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3988) نے ابراہیم بن سعد کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے اور انہوں نے عبدالرحمن بن عوف سے مختصراً روایت کیا ہے۔
قوله: بين أَضْلَعَ، أي: بين أقوى وأشدَّ.
📝 نوٹ / توضیح: "بين أَضْلَعَ" کا مطلب ہے: زیادہ مضبوط اور طاقتور لوگوں کے درمیان۔
وقوله: سَوادي، أي: شخصي.
📝 نوٹ / توضیح: "سَوادي" کا مطلب ہے: میرا وجود/شخص۔
والأعجل: الأقربُ أجلًا. وهي كلمة معروفة يُتمثَّل بها في التجلُّد على الشيء والصبر عليه. وأنْشَبُ، معناه: ألبث.
📝 نوٹ / توضیح: "الأعجل": جس کی موت قریب ہو۔ یہ ایک معروف لفظ ہے جسے صبر و استقلال کے لیے بولا جاتا ہے۔ "أنْشَبُ" کا معنی ہے: میں ٹھہرتا ہوں۔
والسَّلَب ما يؤخذ من القتيل ممّا يكون معه من سلاح وثياب ودابّة وغيرها.
📝 نوٹ / توضیح: "السَّلَب": وہ سامان جو مقتول سے لیا جاتا ہے، جیسے ہتھیار، کپڑے، سواری وغیرہ۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5912 in Urdu