المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
619. تحرز محمد بن مسلمة عن الفتنة
فتنہ کے وقت سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا کنارہ کش رہنا
حدیث نمبر: 5948
فحدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا إبراهيم بن جعفر، عن أبيه، قال: مات محمدُ ابن مَسْلَمة بالمدينة سنة ستٍّ وأربعين، وهو يومئذ ابن سبع وسبعين سنةً وكان طويلًا أصلَعَ (1) .
ابراہیم بن جعفر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: محمد بن مسلمہ رضی للہ عنہ کا انتقال 46 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوا، وفات کے وقت ان کی عمر 77 برس تھی۔ آپ دراز قد تھے اور ان کے سر کے اگلے حصے کے بال جھڑے ہوئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5948]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5948 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 409 و 410 عن محمد بن عمر الواقدي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "الطبقات الكبرى" ابن سعد (3/ 409 اور 410) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5948M
قال ابن عُمر: كان محمد بن مَسلَمة يُكنى أبا عبد الرحمن أسلمَ بالمدينة على يد مُصعب بن عُمَير قبل إسلام أُسَيد بن الحُضَير وسعد بن مُعاذ، وآخَى رسولُ الله ﷺ بينَه وبين أبي عُبيدة بن الجَرّاح، وشهد بدرًا وأحُدًا، وكان فيمن ثَبَتَ يومَ أُحُد مع رسول الله ﷺ حين ولَّى الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والمشاهدَ مع رسول الله ﷺ، ما خلا تَبوكَ؛ فإنَّ رسول الله ﷺ خَلَّفَه بالمدينة حين خَرَج إليها، وكان فيمن قَتَل كعبَ بن الأَشرفِ (2) .
ابن عمر فرماتے ہیں: محمد بن مسلمہ کی کنیت ” ابوعبدالرحمن “ تھی، آپ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے مدینہ منورہ میں سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مشرف با اسلام ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا۔ آپ نے جنگ بدر، جنگ خندق اور جنگ احد میں شرکت کی۔ اور جنگ احد کے دن جب دوسرے لوگ تتر بتر ہو گئے تھے، عین اس حالت میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدم رہے۔ غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینہ کی ذمہ داری عطا فرمائی تھی۔ کعب بن اشرف کو واصل جہنم کرنے والوں میں یہ بھی شامل تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5948M]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5948M پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) انظر "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 408 - 409.
📖 حوالہ / مصدر: دیکھیں: "الطبقات الكبرى" ابن سعد (3/ 408-409)۔
والصحيح أن النبي ﷺ استخلف على المدينة مَخرجَه إلى تبوكَ عليَّ بن أبي طالب كما تقدَّم من حديث سعد بن أبي وقاص برقم (4626)، وهو عند البخاري (4416)، ومسلم (2404).
📌 اہم نکتہ: صحیح بات یہ ہے کہ نبی ﷺ نے تبوک جاتے وقت مدینہ پر علی بن ابی طالب کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، جیسا کہ سعد بن ابی وقاص کی حدیث سے نمبر (4626) پر گزر چکا، اور یہ بخاری (4416) اور مسلم (2404) میں موجود ہے۔
وقصة مشاركته في قتل كعب بن الأشرف ستأتي عند المصنف موصولةً قريبًا برقم (5952) و (5953).
📝 نوٹ / توضیح: کعب بن اشرف کے قتل میں ان کی شرکت کا قصہ مصنف کے ہاں عنقریب "موصول" سند کے ساتھ نمبر (5952) اور (5953) پر آئے گا۔