المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
620. إذا ألقى الله خطبة امرأة فى قلب رجل فلا بأس أن ينظر إليها
جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کی رغبت ڈال دے تو اس کے لیے اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 5950
وحدّثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبدُ الرحمن، حدثنا سفيان، عن أشعثَ بن أبي الشَّعْثاء، عن أبي بُرْدة، قال: قال حُذَيفةُ: إني لأعرفُ رجلًا لا تَضُرُّه الفتنةُ. فأَتينا المدينةَ، فإذا فُسطاطٌ مضروبٌ، وإذا محمدُ بن مَسلَمة الأنصاري، فسألْناه، فقال: لا نَشتَمِلُ على شيءٍ من أمصارِهم حتى يَنجَليَ الأمرُ عن ما انجلَى (1) . هذه فضيلةٌ كبيرةٌ بإسناد صحيح.
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کو فتنہ کوئی نقصان نہیں دے گا۔ ہم مدینہ منورہ آئے، ہم نے خیمے نصب دیکھے، اور ان خیموں میں سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے ہماری ملاقات ہو گئی۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہم ان شہروں میں سے کسی بھی فتنہ میں شامل نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ تمام معاملہ اچھی طرح واضح ہو جائے۔ ٭٭ سند صحیح کے ہمراہ یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5950]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5950 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن كسابقه، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه منقطع، فإنَّ أبا بردة - وهو ابن أبي موسى الأشعري - لم يسمع هذا الخبر من حذيفة، بينهما فيه رجلٌ كما تقدَّم في الطريق السابقة. على أن المحفوظ في رواية عبد الرحمن - وهو ابن مهدي - عن سفيان الثوري ذكرُ الواسطة بين أبي بردة وحذيفة، وسمّاه ضُبيعة، كذلك رواه إسحاق بن راهويه عند البخاري في "تاريخه الكبير" 1/ 12، وسوار بن عبد الله بن سوار عند أبي نُعيم الأصبهاني في "معرفة الصحابة" (587)، كلاهما عن عبد الرحمن بن مهدي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث پچھلی حدیث کی طرح "حسن" ہے۔ اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ "منقطع" ہے، کیونکہ ابو بردہ (ابن ابی موسیٰ الاشعری) نے یہ خبر حذیفہ سے نہیں سنی، ان کے درمیان ایک آدمی کا واسطہ ہے جیسا کہ پچھلی سند میں گزرا۔ البتہ عبدالرحمن (ابن مہدی) کی سفیان ثوری سے روایت میں ابو بردہ اور حذیفہ کے درمیان واسطے کا ذکر "محفوظ" ہے، اور انہوں نے اس کا نام "ضبیعہ" بتایا ہے۔ اسی طرح اسحاق بن راہویہ نے بخاری کی "التاریخ الکبیر" (1/ 12) میں اور سوار بن عبداللہ بن سوار نے ابو نعیم کی "معرفة الصحابة" (587) میں عبدالرحمن بن مہدی سے روایت کیا ہے۔