المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
622. بعث عثمان محمد بن مسلمة أميرا على الجيش
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو فوج کا امیر مقرر کرنا
حدیث نمبر: 5953
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا الحُسين بن محمد القَبّاني، حدثنا محمد بن عَبّاد المكّي، حدثنا محمد بن طلحة التّيْمي، عن عبد الحميد بن أبي عَبْس بن محمد بن أبي عَبْس، عن أبيه، عن جده، قال: كان كعبُ بن الأشرف يقول الشِّعرَ، ويَخذُل النبيَّ ﷺ، ويَخرُج في غَطَفَانَ، فقال النبي ﷺ:"مَن لي بابنِ الأشْرفِ، فقد آذى الله ورسولَه"، فقال محمدُ بن مَسلَمة الحارِثي: أنا يا رسولَ الله، أتُحِبُّ أن أقتُلَه، فصمَتَ رسولُ الله ﷺ، ثم قال:"ائتِ سعدَ بن مُعاذٍ فاستَشِرْه"، قال: فجئتُ سعدَ بن مُعاذ، فذكَرتُ ذلك له، فقال: امضِ على بَرَكة اللهِ، واذهبْ معك بابنِ أخي الحارثِ بن أوس بن مُعاذ، وبعَبّاد بن بِشْر الأشهلي، وبأبي عَبْس بن جَبْر الحارثي، وبأبي نائلة سِلْكانَ بن وَقْش (1) الأشْهَلي، قال: فَلَقِيتُهم فذكرتُ ذلك لهم، فجاؤوني كلُّهم إلَّا سِلْكانَ، فقال: يا أخي (2) ، أنت عندي مُصدَّقٌ، ولكن لا أُحبُّ أن أفعلَ من ذلك شيئًا حتى أُشافِهَ رسولَ الله ﷺ، فذَكَر ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال:"امْضِ معَ أصحابِك"، قال: فخرَجْنا إليه ليلًا، حتى جِئناهُ في حِصْنٍ، فقال عَبّاد بن بِشْر في ذلك شعرًا شَرَح في شِعْره قَتْلَهم ومَذْهَبَهم، فقال: صَرَختُ به فلم يَعرِضْ لِصَوتي … ووافَى طالعًا مِن فوقِ خِدْرِ فعُدْتُ له فقال: مَن المُنادي … فقلتُ: أخوك عَبَّادُ بن بِشْرِ وهذِي (1) دِرعُنَا رَهْنًا فَخُذْهَا … لِشَهرٍ إِنْ وَفَى أو نصفِ شَهْرِ فقال: معاشِرٌ سَغِبُوا وجاعُوا … وما عَدِمُوا الغِنى من غيرِ فَقرِ فأقبَل مُحذِيًا يَهوي سريعًا … وقال لنا: لقد جئتُم لأمرِ وفي أَيمانِنا بِيضٌ حِدَادٌ … مُجَرَّبةٌ بها نَكوِي ونَفْري فقلتُ لصاحِبي لمّا تَدَانَى … نُبادِرُه السُّيوف كذَبْحِ عِتْرِ وعانَقَهُ ابن مَسْلَمَةَ المُرادِي (2) … يَصِيحُ عليه كاللَّيثِ الهِزَبْرِ وشدَّ بسيفِهِ صَلْتًا عليهِ … فقَطَّرَه أبو عَبْسِ بنُ جَبْرِ وكان اللهُ سادِسَنا وَليًّا … بأنعَمِ نِعْمَةٍ وأعَزِّ نَصرِ وجاء برأسِهِ نَفَرٌ كِرامٌ … أتاهُمْ هُوْدُ من صِدْقٍ وبِرِّ (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5841 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5841 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبدالحمید بن ابوعبس بن محمد بن ابی عبس اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ اشعار پڑھا کرتا تھا، وہ غطفان میں نکل جاتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن اشرف سے میرا دفاع کون کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ محمد بن مسلمہ حارثی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں، اگر آپ چاہیں تو میں اس کو قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے، پھر فرمایا: تم سعد بن معاذ کے پاس چلے جاؤ، اور ان سے مشورہ کر لو (محمد بن مسلمہ) فرماتے ہیں: میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے ساری بات کی، انہوں نے میری خوب حوصلہ افزائی کی اور کہا: تم اپنے ارادے پر قائم رہو، اور اپنے ساتھ حارث بن اوس بن معاذ رضی اللہ عنہ، عبادہ بن بشر اشہلی رضی اللہ عنہ، ابوعبس بن جبر حارثی رضی اللہ عنہ اور ابونائل سلکان بن قیس اشہلی رضی اللہ عنہ کو بھی شامل کر لو۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے بات چیت کی۔ سلکان کے علاوہ تمام لوگ میرے ساتھ تیار ہو گئے، سلکان نے کہا: میں تمہیں جھوٹا تو نہیں سمجھتا، لیکن میں اس وقت تک اس معاملہ میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے اس بات کی تصدیق نہ کر لوں۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ علیہ السلام نے ان کو ان کے ساتھیوں کے ہمراہ جانے کی اجازت دے دی۔ ہم رات کے وقت اس کی جانب نکلے اور اس کے قلعے کے قریب پہنچ گئے، سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر کچھ اشعار کہے ہیں جن میں ابن اشرف کے قتل کی تفصیل موجود ہے۔ * میں نے چیخ کر اس کو آواز دی لیکن اس نے میری آواز پر کوئی توجہ نہ دی۔ * میں نے اس کو دوبارہ پکارا تو وہ دیوار کے اوپر چڑھ کر پوچھنے لگا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا: تمہارا بھائی ” عباد بن بشر “۔ * میں نے کہا: تم میری یہ زرہ آدھے مہینے یا دو مہینے کے لئے گروی رکھ لو۔ * اس نے کہا: لوگ بھوکے اور پیاسے ہیں اور فقر کے بغیر دولت ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہماری جانب تیزی سے چلتا ہوا آیا اور کہنے لگا: تم بڑے اہم معاملے میں آئے ہو۔ * ہمارے ہاتھوں میں تیز تلواریں تھیں، جو کہ آزمائی ہوئی تھیں، ہم اس کے ساتھ زخم لگاتے اور (سر سے پاؤں تک) چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ * جب وہ ہماری طرف آ رہا تھا، تب میں نے اپنے ساتھی سے کہا: اس پر بہت پھرتی سے حملہ کرنا، جیسے اونٹوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ * ابن مسلمہ مرادی اس سے بغلگیر ہوا اور طاقتور شیر کی مانند اس پر جھپٹ پڑا۔ * اس نے اپنی تلوار سونت کر اس پر حملہ کیا اور ابوعبس بن جبر نے اس کو چیر ڈالا۔ * نعمت عطا کرنے اور عزت عطا کرنے میں ہم (صرف پانچ افراد تھے) چھٹی اللہ تعالیٰ کی ذات کریمہ تھی۔ * باعزت لوگ اس کا سر لے کر آئے اور نیکی اور صداقت کی تخفیف ان کے پاس آ گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5953]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5953 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: أبي نائل سلكان بن قيس. والتصويب من مصادر الترجمة ومن "الإصابة" لابن حجر 7/ 409.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "ابو نائل سلکان بن قیس" بن گیا ہے۔ درست نام مصادرِ ترجمہ اور ابن حجر کی "الإصابة" (7/ 409) سے لیا گیا ہے۔
(2) في (ص) و (م) و (ب): يا ابن أخي.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص)، (م) اور (ب) میں "یا ابن اخی" (اے میرے بھتیجے) ہے۔
(1) في نسخنا الخطية: وهذا بالتذكير، والدِّرع تُذكَّر وتُؤنَّث، لكن الذي في سائر المصادر التي أوردت هذا الخبر بالتأنيث، وهذا موافق لحالة الفعل الذي بعد هذا في البيت، حيث هو مؤَنّث.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "وہذا" (مذکر) ہے، جبکہ "درع" (زرہ) مذکر اور مؤنث دونوں استعمال ہوتی ہے۔ لیکن دیگر مصادر میں یہ مؤنث ہے، اور یہ شعر میں بعد میں آنے والے فعل کے موافق ہے جو کہ مؤنث ہے۔
(2) المرادي: اسم فاعل من رادَى يُرادي، ومعناه: المُدافِع والمُناضل وليس هو نسبة إلى بني مراد، فالرجلُ حارثي خَزْرجي.
📝 نوٹ / توضیح: "المرادي": یہ "رادٰی یرادی" سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی ہے: دفاع کرنے والا اور لڑنے والا۔ یہ بنو مراد کی طرف نسبت نہیں ہے، کیونکہ یہ شخص حارثی خزرجی ہے۔
(3) إسناده محتمل للتحسين من أجل أبي عبس بن محمد بن أبي عبس، فهو - وإن لم يرو عنه غير ابنه - تابعي أدرك جده أبا عبس بن جَبْر، وروى عنه هذا الحديث وغيره، فالمراد بقوله في هذا الإسناد: عن جده، يعني الجد الأعلى، وليس الجدّ الأدنى محمد، كما توضحه رواية أبي نعيم في "معرفة الصحابة" (6931) حيث عيَّنه بقوله: عن جده أبي عبس بن جَبْر.
⚖️ درجۂ حدیث: ابو عبس بن محمد بن ابی عبس کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ اگرچہ ان سے ان کے بیٹے کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی، لیکن وہ تابعی ہیں اور اپنے دادا ابو عبس بن جبر کو پایا ہے، اور ان سے یہ حدیث اور دیگر روایات نقل کی ہیں۔ اس سند میں "اپنے دادا سے" مراد "پڑدادا" (جد اعلیٰ) ہیں نہ کہ قریبی دادا محمد۔ جیسا کہ ابو نعیم کی "معرفة الصحابة" (6931) کی روایت سے واضح ہوتا ہے جہاں انہوں نے نام لے کر کہا: "اپنے دادا ابو عبس بن جبر سے"۔
وعبد الحميد هكذا سُمّي هنا، والصحيح في اسمه عبد المجيد كما في مصادر تخريج الخبر.
📝 نوٹ / توضیح: یہاں ان کا نام "عبدالحمید" لکھا ہے، جبکہ صحیح نام "عبدالمجید" ہے جیسا کہ خبر کی تخریج کے مصادر میں ہے۔
وأخرجه أبو العباس السّرّاج في "تاريخه" كما في "الإصابة" لابن حجر 7/ 409، وعنه أبو أحمد الحاكم في "الأسامي والكنى" 5/ 379 عن محمد بن يحيى الذهلي، عن محمد بن عباد، بهذا الإسناد. وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (6931) من طريق يوسف بن يعقوب الصفّار، عن محمد بن طلحة التيمي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو العباس السراج نے اپنی "تاریخ" میں (جیسا کہ ابن حجر کی "الإصابة" 7/ 409 میں ہے)، اور ان سے ابو احمد الحاکم نے "الأسامي والكنى" (5/ 379) میں محمد بن یحییٰ الذہلی کے واسطے سے محمد بن عباد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" (6931) میں یوسف بن یعقوب الصفار کے طریق سے محمد بن طلحہ التیمی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔