المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
624. ذكر مناقب سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل عاشر العشرة - رضى الله عنه -
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ (عشرۂ مبشرہ میں دسویں صحابی) کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5956
ما حدَّثَناه أحمدُ بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن عُبيد الله النَّرْسي وعبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، قالا: حدثنا رَوْح بن عُبادة القَيْسي، حدثنا عَوف بن أبي جَمِيلة، عن ميمون أبي عبد الله، عن عبد الله بن بُريدةَ [عن أبيه بُريدةَ] (2) الأسلَمِيّ: أنَّ رسول الله ﷺ لما نزل بحَضْرة أهل خيبر، قال رسول الله ﷺ:"لأُعْطِينّ اللواءَ غدًا رجلًا يُحِبُّ الله ورسُولَه ويُحِبُّه اللهُ ورسولُه"، فلما كانَ من الغَدِ تَطاوَلَ له جماعةٌ مِن أصحابه، فدَعَا عليًّا وهو أرمَدُ، فتَفَلَ في عَينَيهِ وأعطَاهُ اللِّواءَ، ونَهَضَ معه الناسُ، فَلَقُوا أهلَ خيبر، فإذا مَرحَبٌ بين أيديهم يَرتَجِزُ، وإذا هو يقول: قد عَلِمَتْ خَيبرُ أني مَرحَبُ … شاكُ (3) السلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إذا السيوفُ أقبَلَتْ تَلهَبُ … أطعَنُ أحيانًا وحِينًا أضربُ فاختلفَ هو وعليٌّ بضَرْبتَين، فضربه عليٌّ على رأسِه حتى عَضَّ السّيفُ بأضراسِه، وسَمِعَ أهلُ العَسكَر صوتَ ضربتِه، فقتَلَه، فما تتامَّ آخرُ الناسِ حتى فُتِح لأوَّلِهم (1) . هذا باب كبير قد خَرّجتُه في"الأبواب". ذكرُ مناقب سعيد بن زيد بن عَمْرو بن نُفَيل، عاشِرِ العَشَرة ﵁ -
سیدنا میمون ابوعبداللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں اپنے پڑاؤ کے دوران فرمایا تھا کہ میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اگلے دن بہت سارے صحابہ کرام اس امتیاز کو حاصل کرنے کے طلبگار تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن مبارک لگایا، ان کو جھنڈا عطا فرمایا، اور لوگوں کو ان کے ہمراہ روانہ فرمایا۔ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہمراہی میں خیبر پر حملہ کیا، ان کی مڈبھیڑ مرحب سے ہو گئی، وہ یہ رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ * خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، میں جنگی ہتھیاروں سے لیس، جنگ کے داؤ پیچ کو جاننے والا سپہ سالار ہوں۔ * جب تلواروں سے تلواریں ٹکرانا شروع ہو جاتی ہیں تو میں کبھی نیزے سے حملہ کرتا ہوں اور کبھی تلوار کا وار کرتا ہوں۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مرحب کے درمیان گھمسان کا رن پڑا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر ایک کاری ضرب لگائی، جو اس کی زرہ، خود اور سر کو چیرتی ہوئی اس کی داڑھوں کو کاٹ کر اس کے جبڑے تک پہنچ گئی، پورے لشکر نے اس حملے کی آواز سنی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو واصل جہنم کر دیا۔ ابھی پورا لشکر خیبر میں نہیں پہنچا تھا کہ خیبر فتح ہو گیا۔ اس موضوع پر بہت ساری احادیث ہیں، ان کو میں نے ان کے متعلقہ ابواب میں درج کر دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5956]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5956 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) سقط ذكر بريدة من نسخنا الخطية، وهو ثابت في رواية الحديث لدى جميع من خرَّجه، ورواه غير واحدٍ منهم عن روح بن عبادة نفسه، فذكره.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں سے بریدہ رضی اللہ عنہ کا ذکر گر گیا ہے، جبکہ جن محدثین نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے ان سب کے ہاں یہ ثابت ہے۔ اور کئی راویوں نے اسے خود روح بن عبادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں (بریدہ کا) ذکر موجود ہے۔
(3) في النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان: شاكي، وكلٌّ جائز، يقال: رجل شاكي السلاحِ، وشائك السلاح؛ وشاكُ السلاح؛ أي: حديد السلاح، أو تامّ السلاح كامل الاستعداد.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ محمودیہ میں (جیسا کہ میمنیہ ایڈیشن میں ہے) "شاکی" کا لفظ ہے، اور سب درست ہیں۔ کہا جاتا ہے: "رجل شاکی السلاح"، "شائک السلاح" اور "شاکُ السلاح"۔ یعنی تیز ہتھیاروں والا، یا مکمل ہتھیار بند اور پوری طرح تیار۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ميمون أبي عبد الله - وهو الكِنْدي البصري - لكنه متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، جبکہ موجودہ سند میمون ابی عبداللہ (الکندی البصری) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 38/ (23031) عن روح بن عبادة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 23031) نے روح بن عبادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (23031)، والنسائي (8347) و (8546) من طريق محمد بن جعفر، عن عوف بن أبي جميلة به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23031) اور نسائی (8347 اور 8546) نے محمد بن جعفر کے طریق سے عوف بن ابی جمیلہ سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه دون ذكر قصة مرحب وقتل علي بن أبي طالب إياه: أحمد (22993)، والنسائي (8346) و (8547) من طريق الحُسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة الأسلمي، به. والحسين بن واقد قوي الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح (مرحب کے قصے اور علی بن ابی طالب کے ہاتھوں اس کے قتل کے ذکر کے بغیر) احمد (22993) اور نسائی (8346 اور 8547) نے حسین بن واقد کے طریق سے عبداللہ بن بریدہ الاسلمی سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور حسین بن واقد "قوی الحدیث" ہیں۔
وقد روى البيهقي هذا الخبر في "السنن الكبرى" 9/ 132، وفي "دلائل النبوة" 4/ 210 من طريق الحسين بن واقد، وزاد في روايته: فسمعت عبد الله بن بريدة يقول: حدثني أبي: أنه كان صاحبَ مَرْحَب. هكذا رواه على الاختصار.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے یہ خبر "السنن الكبرى" (9/ 132) اور "دلائل النبوة" (4/ 210) میں حسین بن واقد کے طریق سے روایت کی ہے، اور اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: "میں نے عبداللہ بن بریدہ کو کہتے سنا: مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ وہی (میرے والد) مرحب کے مدِ مقابل تھے۔" اس طرح انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بذكر قصة مرحب وقتل عليٍّ أياه مختصرًا أيضًا ابن أبي عاصم في "السنة" (1380)، والطبراني في "مسند الشاميين" (2444)، والخطيب البغدادي في "تلخيص المتشابه في الرسم" 2/ 826 من طريق عطاء بن أبي مسلم الخُراساني، عن عبد الله بن بريدة، به. وعطاء قويُّ الحديث أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: مرحب کے قصے اور علی کے ہاتھوں اس کے قتل کے ذکر کے ساتھ اسے مختصراً ابن ابی عاصم نے "السنة" (1380)، طبرانی نے "مسند الشاميين" (2444) اور خطیب بغدادی نے "تلخيص المتشابه" (2/ 826) میں عطاء بن ابی مسلم الخراسانی کے طریق سے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: عطاء بھی "قوی الحدیث" ہیں۔
ويشهد له بذكر قصة مرحبٍ وقتل عليٍّ إياه حديثُ سلمة بن الأكوع عند أحمد 27/ (16538)، ومسلم (1807)، وابن حبان (6935). وهو عند البخاري (2975) و (3702) و (4209) لكن مختصرًا بقصة دفع الراية إلى عليٍّ وفتح خيبر على يديه، دون قصة مرحبٍ وقتل عليٍّ إياه.
🧩 متابعات و شواہد: مرحب کے قصے اور علی کے ہاتھوں اس کے قتل کے ذکر پر سلمہ بن اکوع کی حدیث شاہد ہے جو احمد (27/ 16538)، مسلم (1807) اور ابن حبان (6935) میں ہے۔ یہ بخاری (2975، 3702 اور 4209) میں بھی ہے لیکن وہاں مختصراً صرف علی کو جھنڈا دینے اور ان کے ہاتھوں خیبر فتح ہونے کا ذکر ہے، مرحب کے قصے اور اس کے قتل کا ذکر نہیں ہے۔