المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
624. ذكر مناقب سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل عاشر العشرة - رضى الله عنه -
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ (عشرۂ مبشرہ میں دسویں صحابی) کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5958
أخبرني أبو جعفر البغدادي، حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحرّاني، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسوَد، عن عُروة، قال: سعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل قَدِمَ من الشام بعدما رَجَعَ رسولُ الله ﷺ من بدر، فكلَّم رسولَ الله ﷺ، فضَرَبَ له بسَهْمِه، قال: وأَجْرِي يا رسول الله؟ قال:"وأجْرُك" (1) .
سیدنا عروہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ بدر سے واپس آنے کے بعد سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل شام سے آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بدر کے مال غنیمت سے حصہ عطا فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرا ” ثواب “؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ثواب بھی عطا فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5958]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5958 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لإرساله، غير أنه ممّا اتفق عليه أهل المغازي والسير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "مرسل" ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم یہ ان باتوں میں سے ہے جن پر اہلِ مغازی و سیر کا اتفاق ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (338)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (531)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 6/ 292 من طريق محمد بن عمرو بن خالد الحَرَّاني، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الكبير" (338)، ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" (531) اور بیہقی نے "السنن الكبرى" (6/ 292) میں محمد بن عمرو بن خالد الحرانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي 9/ 57 من طريق يعقوب بن سفيان، عن عمرو بن خالد الحراني، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (9/ 57) نے یعقوب بن سفیان کے واسطے سے عمرو بن خالد الحرانی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي أيضًا 9/ 57 من طريق حسّان بن عبد الله الكِنْدي، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 21/ 63 من طريق الوليد بن مسلم، كلاهما عن ابن لَهِيعة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (9/ 57) نے حسان بن عبداللہ الکندی کے طریق سے، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (21/ 63) میں ولید بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ابن لہیعہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
ومثله قولُ ابن إسحاق كما سيأتي بعده، وقولُ الزهري عند أبي القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (962)، وابن عساكر 21/ 63 - 64، وقولُ موسى بن عُقبة عند البيهقي 6/ 292، وانظر "تاريخ دمشق" لابن عساكر 21/ 63 - 68.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح ابن اسحاق کا قول ہے (جیسا کہ بعد میں آئے گا)؛ اور زہری کا قول (ابو القاسم البغوی کی "معجم الصحابة" 962 اور ابن عساکر 21/ 63-64 میں)؛ اور موسیٰ بن عقبہ کا قول (بیہقی 6/ 292 میں)۔ دیکھیں: "تاریخ دمشق" از ابن عساکر (21/ 63-68)۔