🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
626. ذِكْرُ إِسْلَامِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5964
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: وسعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل، كان أبوه زيدُ بن عمرو بن نُفَيل قد فارقَ دِينَ قَومِه من قُريش، وتُوفّي وقُريشٌ تَبْني الكعبةَ، وذلك قبل أن يُوحَى إلى رسولِ اللهِ ﷺ بخمسِ سنينَ، فرُويَ عن رسول الله ﷺ أنه قال:"يُبعَثُ أُمّةً وَحْدَه" (2) . وأسلم سعيد بن زيد بن عمرو قبل أن يَدخُل رسولُ الله ﷺ دارَ الأرقم، وقبل أن يَدعُو فيها الناسَ إلى الإسلام، وشهد سعيدُ بن زيد أحُدًا والخندق والمشاهد كلَّها مع رسول الله ﷺ، ولم يَشهَدْ بدرًا.
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کے والد زید بن عمرو بن نفیل اپنی قوم قریش کے (مشرکانہ) دین کو چھوڑ چکے تھے، ان کی وفات اس وقت ہوئی جب قریش کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے آغاز سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: ”وہ (قیامت کے دن) تنہا ایک امت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔“ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے ہی ایمان لا چکے تھے، سعید بن زید رضی اللہ عنہ غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے، البتہ وہ غزوۂ بدر میں موجود نہیں تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5964]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5964] [ترقيم الشركة 5905]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5964 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) روي هذا الحرف من حديث أسماء بنت أبي بكر عند النسائي (8131) بإسناد صحيح. ومن حديث سعيد بن زيد عند أحمد 3/ (1648) بإسناد ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: یہ بات اسماء بنت ابی بکر کی حدیث سے نسائی (8131) میں "صحیح سند" کے ساتھ؛ اور سعید بن زید کی حدیث سے احمد (3/ 1648) میں "ضعیف سند" کے ساتھ مروی ہے۔
ومن حديث زيد بن حارثة، وسلف عند المصنف برقم (5022) بإسناد حسن.
🧩 متابعات و شواہد: اور زید بن حارثہ کی حدیث سے مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (5022) پر "حسن سند" کے ساتھ گزر چکی ہے۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5964M
قال ابن عُمر: فحدّثني عبد الملك بن زيد - من ولَد سعيد بن زيد - عن أبيه، قال: تُوفي سعيد بن زيد بالعَقِيق، فحُمِلَ على رِقاب الرِّجال، ودُفن بالمدينة، ونزل في حُفرَته سعدُ بن أبي وقاص وابن عُمر، وذلك سنة خمسين أو إحدى وخمسين، وكان يومَ مات ابنَ بِضْعٍ وسبعين سنة (1) . قال ابن عمر: وأمُّه فاطمة بنت بَعْجَة بن أُميّة بن خُوَيلد بن المعود (2) بن حَيَّان بن غَنْم (3) .
عبدالملک بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال مقامِ عقیق میں ہوا، پھر انہیں کندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا، ان کی قبر میں سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم اترے، یہ واقعہ سن 50 یا 51 ہجری کا ہے، اور وفات کے وقت ان کی عمر ستر سال سے کچھ اوپر تھی، ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ (خزاعہ سے تعلق رکھنے والی) فاطمہ بنت بعجہ بنت امیہ تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5964M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5964M]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5964M پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 385 عن محمد بن عمر الواقدي به.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "الطبقات الكبرى" ابن سعد (3/ 385) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
(2) هكذا جاء هذا الاسم في (ز)، وجاء في سائر نسخنا الخطية العود، بحذف الميم، وهذا رجل اختُلف في اسمه كما يظهر من كلام المزي في "تهذيب الكمال" 10/ 447.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ نام اسی طرح (العمود) آیا ہے، جبکہ ہمارے باقی قلمی نسخوں میں "العود" (میم کے حذف کے ساتھ) آیا ہے۔ اس شخص کے نام میں اختلاف ہے جیسا کہ مزی کے کلام (تہذیب الکمال 10/ 447) سے ظاہر ہوتا ہے۔
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى غنيم، مصغرًا، والتصويب من مصادر الترجمة، وانظر "طبقات ابن سعد" 3/ 352، و "تاريخ دمشق" 21/ 66 و 68.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "غنیم" (تصغیر کے ساتھ) بن گیا ہے۔ اس کی تصحیح مصادرِ ترجمہ سے کی گئی ہے۔ دیکھیں: "طبقات ابن سعد" (3/ 352) اور "تاریخ دمشق" (21/ 66 اور 68)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5964 in Urdu