المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
626. ذكر إسلام سعيد بن زيد رضى الله عنه
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
حدیث نمبر: 5964
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: وسعيد بن زيد بن عمرو بن نُفَيل، كان أبوه زيدُ بن عمرو بن نُفَيل قد فارقَ دِينَ قَومِه من قُريش، وتُوفّي وقُريشٌ تَبْني الكعبةَ، وذلك قبل أن يُوحَى إلى رسولِ اللهِ ﷺ بخمسِ سنينَ، فرُويَ عن رسول الله ﷺ أنه قال:"يُبعَثُ أُمّةً وَحْدَه" (2) . وأسلم سعيد بن زيد بن عمرو قبل أن يَدخُل رسولُ الله ﷺ دارَ الأرقم، وقبل أن يَدعُو فيها الناسَ إلى الإسلام، وشهد سعيدُ بن زيد أحُدًا والخندق والمشاهد كلَّها مع رسول الله ﷺ، ولم يَشهَدْ بدرًا.
محمد بن عمر فرماتے ہیں: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کے والد زید بن عمرو بن نفیل اپنی قوم کا دین چھوڑ چکے تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا، اس وقت قریش کعبۃ اللہ کی تعمیر کر رہے تھے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے تقریباً پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، یہ بات بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: وہ بھی اسی امت میں سے اٹھائے جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں داخل ہونے اور وہاں پر دعوت و تبلیغ کا کام شروع کرنے سے پہلے سیدنا سعید بن زید بن عمرو رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ البتہ جنگ بدر میں آپ شریک نہ ہو سکے تھے۔ ابن عمر کہتے ہیں: سعید بن زید کی اولاد امجاد میں سے ہیں، آپ اپنے والد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ” سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال مقام ” عقیق “ میں ہوا تھا، لوگ ان کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر مدینہ میں لے کر آئے، اور یہیں دفن کیا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ کو لحد میں اتارا۔ یہ سن 50 یا 51 ہجری کا واقعہ ہے۔ وفات کے وقت ان کی عمر ستر برس سے زیادہ تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان کی والدہ کا نام ” فاطمہ بنت بعجہ بن امیہ بن خویلد بن معوذ بن حیان بن غنیم “ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5964]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5964 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) روي هذا الحرف من حديث أسماء بنت أبي بكر عند النسائي (8131) بإسناد صحيح. ومن حديث سعيد بن زيد عند أحمد 3/ (1648) بإسناد ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: یہ بات اسماء بنت ابی بکر کی حدیث سے نسائی (8131) میں "صحیح سند" کے ساتھ؛ اور سعید بن زید کی حدیث سے احمد (3/ 1648) میں "ضعیف سند" کے ساتھ مروی ہے۔
ومن حديث زيد بن حارثة، وسلف عند المصنف برقم (5022) بإسناد حسن.
🧩 متابعات و شواہد: اور زید بن حارثہ کی حدیث سے مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (5022) پر "حسن سند" کے ساتھ گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 5964M
قال ابن عُمر: فحدّثني عبد الملك بن زيد - من ولَد سعيد بن زيد - عن أبيه، قال: تُوفي سعيد بن زيد بالعَقِيق، فحُمِلَ على رِقاب الرِّجال، ودُفن بالمدينة، ونزل في حُفرَته سعدُ بن أبي وقاص وابن عُمر، وذلك سنة خمسين أو إحدى وخمسين، وكان يومَ مات ابنَ بِضْعٍ وسبعين سنة (1) . قال ابن عمر: وأمُّه فاطمة بنت بَعْجَة بن أُميّة بن خُوَيلد بن المعود (2) بن حَيَّان بن غَنْم (3) .
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5964M]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5964M پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 385 عن محمد بن عمر الواقدي به.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "الطبقات الكبرى" ابن سعد (3/ 385) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
(2) هكذا جاء هذا الاسم في (ز)، وجاء في سائر نسخنا الخطية العود، بحذف الميم، وهذا رجل اختُلف في اسمه كما يظهر من كلام المزي في "تهذيب الكمال" 10/ 447.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ نام اسی طرح (العمود) آیا ہے، جبکہ ہمارے باقی قلمی نسخوں میں "العود" (میم کے حذف کے ساتھ) آیا ہے۔ اس شخص کے نام میں اختلاف ہے جیسا کہ مزی کے کلام (تہذیب الکمال 10/ 447) سے ظاہر ہوتا ہے۔
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى غنيم، مصغرًا، والتصويب من مصادر الترجمة، وانظر "طبقات ابن سعد" 3/ 352، و "تاريخ دمشق" 21/ 66 و 68.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "غنیم" (تصغیر کے ساتھ) بن گیا ہے۔ اس کی تصحیح مصادرِ ترجمہ سے کی گئی ہے۔ دیکھیں: "طبقات ابن سعد" (3/ 352) اور "تاریخ دمشق" (21/ 66 اور 68)۔