المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
635. ذكر بعض آثار القيامة
قیامت کی بعض نشانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 5983
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمدُ بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، أخبرنا حمّاد بن سَلَمة، حدثنا حُميدٌ ويونس وحَبيب بن الشَّهيد، عن الحسن: أنَّ زيادًا استعمَل الحكمَ بن عَمرو الغِفَاريّ على جيش، فلَقِيَه عِمرانُ بن حُصَين في دار الإمارة فيما بينَ الناس، فقال له: تَدْري فيمَ جئتُك؟ أما تَذكُرُ أنَّ رسولَ الله ﷺ لما بَلَغَه الذي قال له أميرُه: قُمْ فقَعْ في النار، فقام الرجلُ لِيقَعَ فيها، فأُدرِكَ، فأمسَكَه، قال: فقال رسول الله ﷺ:"لو وَقَعَ فيها لدَخَلا النار، لا طاعةَ في مَعصِيَةِ الله"؟ قال الحكمُ: بَلَى، قال عمرانُ: إنما أردتُ أن أُذكِّركَ هذا الحديثَ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5870 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5870 - صحيح
حسن بیان کرتے ہیں کہ زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجا، دارالامارۃ میں لوگوں میں ان کی ملاقات عمران بن حصین کے ساتھ ہو گئی، عمران بن حصین نے ان سے کہا: تمہیں پتا ہے کہ میں کیوں آیا ہوں؟ کیا تمہیں یاد نہیں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ ایک آدمی کو اس کے امیر نے آگ میں کودنے کو کہا تو وہ آگ میں چھلانگ لگانے لگا تو امیر نے اس کو دبوچ لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ آگ میں کود جاتا تو دوزخ میں جاتا، امیر کی ایسی بات نہیں ماننی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو۔ حکم نے کہا: جی ہاں مجھے یاد ہے۔ تو عمران بن حصین نے کہا: میں تمہیں یہی حدیث یاد دلانے آیا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5983]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5983 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - لم يسمع من عمران ولا من الحكم بن عمرو، ولكن للحديث طريقان أُخريان صحيحتان. علي بن عبد العزيز: هو البغوي، وحميد: هو ابن أبي حميد الطويل، ويونس: هو ابن عُبيد.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور اس سند کے رجال ثقہ ہیں، لیکن حسن (بصری) نے عمران اور حکم بن عمرو سے نہیں سنا۔ البتہ اس حدیث کے دو اور صحیح طریقے موجود ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن عبدالعزیز سے مراد البغوی، حمید سے مراد ابن ابی حمید الطویل، اور یونس سے مراد ابن عبید ہیں۔
وأخرجه أحمد 34/ (20659) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (34/ 20659) نے عبدالصمد بن عبدالوارث سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 33 / (19880) و 34 / (20653) (20656) من طريق محمد بن سيرين و 34/ (20654) من طريق عبد الله بن الصامت كلاهما عن عمران بن الحُصين. وإسناداهما صحيحان، غير أنَّه ليس فيهما قصة الرجل الذي أمر أحد أفراد جيشه في عهد النبي ﷺ بإلقاء نفسه في النار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (33/ 19880، 34/ 20653 اور 20656) نے محمد بن سیرین کے طریق سے، اور (34/ 20654) نے عبداللہ بن صامت کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں۔ اور یہ دونوں سندیں صحیح ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: البتہ ان میں اس شخص کا قصہ نہیں ہے جس نے عہد نبوی ﷺ میں اپنے لشکر کے ایک فرد کو آگ میں کودنے کا حکم دیا تھا۔
لكن يشهد لها حديثُ علي بن أبي طالب عند أحمد 2/ (622)، والبخاري (4340) و (7145)، ومسلم (1840).
🧩 متابعات و شواہد: لیکن اس قصے کی تائید علی بن ابی طالب کی حدیث سے ہوتی ہے جو احمد (2/ 622)، بخاری (4340 اور 7145) اور مسلم (1840) میں ہے۔