المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
645. ذكر إلقاء المغيرة خاتمه فى قبر النبى صلى الله عليه وآله وسلم
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر میں اپنی انگوٹھی گرا دینا
حدیث نمبر: 6003
حدثنا أبو أحمد إسحاق بن محمد الهاشمي بالكُوفة، حدثنا الحُسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا يونس بن الحارث الطائفي، حدثني أبو عَون الثَّقَفي، عن أبيه، عن المغيرة بن شعبة، قال: لما تُوفِّي رسولُ الله ﷺ بَعثَني أبو بكر الصِّدِّيق إلى أهل النُّجَير، ثم شهدت اليمامةَ، ثم شهدتُ فُتوحَ الشام مع المسلمين، ثم شهدتُ اليرموكَ فأُصيبت عَيني يومَ اليَرمُوك، ثم شهدتُ القادسيّةَ وكنتُ رسولَ سعدٍ إلى رُستُمَ، ووَلِيتُ لِعمر بن الخطب فُتوحًا، وفَتحتُ هَمَذانَ، وشهدتُ نَهاوَنْدَ، وكنتُ على مَيسرةِ النُّعمان بن مُقَرِّن، وكان عمرُ قد كَتَب: إن هَلَك النعمانُ فالأميرُ حذيفةُ، وإن هَلَك فالأمير المُغيرةُ، وكنت أولَ مَن وَضَعَ ديوانَ البصرة، وجمعتُ الناسَ ليُعطَوا، ووَلِيتُ الكوفةَ لعمر بن الخطاب، وقتل عمرُ وأنا عليها، ثم وَلِيتُها لمعاوية (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5890 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5890 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے اہل بحیرہ کی جانب بھیجا، پھر میں جنگ یمامہ میں شریک ہوا، پھر میں شام کی فتوحات میں مسلمانوں کے ہمراہ شریک رہا، پھر میں جنگ یرموک میں شریک ہوا، اس جنگ میں میری آنکھ ضائع ہو گئی، اس کے بعد میں جنگ قادسیہ میں بھی شریک ہوا، میں سیدنا سعد کی جانب سے رستم کی طرف سفیر تھا، میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لئے بہت ساری فتوحات کیں۔ ہمدان میں نے ہی فتح کیا۔ جنگ نہاوند میں نعمان بن مقرن کے میسرہ دستے میں شریک تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لکھی تھی کہ اگر نعمان شہید ہو گیا تو حذیفہ کو امیر بنایا جائے، اور اگر حذیفہ بھی شہید ہو جائے تو مغیرہ بن شعبہ کو امیر بنایا جائے، بصرہ میں سب سے پہلے وزارتیں میں نے مقرر کیں۔ میں نے اس معاملے میں لوگوں کا فنڈ جمع کرانے کا ذہن بنایا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے مجھے کوفہ کا گورنر بھی بنایا گیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو اس وقت میں کوفہ کا گورنر تھا، پھر سیدنا معاویہ نے بھی مجھے وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6003]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6003 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لِينٌ من أجل يونس بن الحارث الطائفي، لكن رَوَى هذا الخبرَ محمد بن عمر الواقدي عن جماعة من شيوخه عند ابن سعد في "طبقاته" 5/ 173 و 177، وكل رواياتهم مرسلةٌ، لكن باجتماع هذه الروايات يتقوَّى الخبر. أبو عون الثقفي: هو محمد بن عبيد الله بن سعيد، وأبو نُعيم: هو الفضل بن دُكين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سند میں یونس بن حارث الطائفی کی وجہ سے کمزوری (لین) ہے۔ لیکن محمد بن عمر الواقدی نے یہ خبر اپنے شیوخ کی جماعت سے "طبقات ابن سعد" (5/ 173 اور 177) میں روایت کی ہے۔ ان کی تمام روایات "مرسل" ہیں، لیکن ان کے جمع ہونے سے خبر قوی ہو جاتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عون الثقفی سے مراد محمد بن عبیداللہ بن سعید، اور ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین ہیں۔
وشهود المغيرة للقادسية وخبره مع رُستم سيأتي برقم (6013) بإسناد حسن.
📝 نوٹ / توضیح: مغیرہ کی قادسیہ میں شرکت اور رستم کے ساتھ ان کی خبر نمبر (6013) پر "حسن سند" کے ساتھ آئے گی۔