المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
648. مُدَّةُ وِلَايَةِ الْمُغِيرَةِ عَلَى الْكُوفَةِ
کوفہ پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی گورنری کی مدت
حدیث نمبر: 6011
فحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري القاضي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن حُصَين، عن هِلال بن يِسَافٍ، عن عبد الله بن ظالم، قال: كان المُغيرةُ بن شُعبة يَنالُ في خُطبتِه من عليٍّ، وأقام خُطباءَ يَنالُون منه، فبَيْنا هو يَخطُب ونالَ من عليٍّ، وإلى جَنْبي سعيدٌ بن زيد بن عمرو بن نُفَيل العَدَوي، قال: فضَرَبَني بيدِه، وقال: ألا تَرَى ما يقول هذا - أو قال: هؤلاء -؟! أشهَدُ على التِّسعةِ أنهم في الجنّة، ولو حَلَفتُ على العاشر لصَدقْتُ، كنا مع رسولِ الله ﷺ بحِراءٍ: أنا وأبو بكر وعمرُ وعثمانُ وعليٌّ وطلحةُ والزبيرُ وسَعْدٌ وعبدُ الرحمن بن عَوف، فتَزَلْزَل الجَبَلُ، فقال النبي ﷺ:"اثْبُتْ؛ فليس عليك إلَّا نَبيٌّ، أو صِدِّيقٌ، أو شَهيدٌ" (2) .
عبداللہ بن ظالم سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کیا کرتے تھے اور انہوں نے ایسے خطیب مقرر کیے ہوئے تھے جو ان پر سب و شتم کرتے تھے، ایک مرتبہ جب وہ خطبہ دے رہے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہہ رہے تھے تو میرے پہلو میں سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل عدوی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے، انہوں نے میرے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”کیا تم دیکھ رہے ہو کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ (یا فرمایا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟) میں ان نو اشخاص کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے متعلق بھی حلف اٹھا لوں تو سچا ہوں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر موجود تھے، جن میں میں خود، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہم) شامل تھے، تو پہاڑ لرزنے لگا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جا! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق یا ایک شہید کے سوا کوئی اور موجود نہیں ہے۔““ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6011]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن جزم النسائي والدارقطني أنَّ هلال بن يِسَاف لم يسمعه من عبد الله بن ظالم، كما مضى بيانه برقم (5469)، إلّا أنَّ للمرفوع منه طُرُقًا أخرى قوية تقدم تخريجها هناك. وقد نقص من هذه الرواية ذكر رجلين من العشرة، وهما سعيد ...» [ترقيم الرساله 6011] [ترقيم الشركة 5952]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6011 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن جزم النسائي والدارقطني أنَّ هلال بن يِسَاف لم يسمعه من عبد الله بن ظالم، كما مضى بيانه برقم (5469)، إلّا أنَّ للمرفوع منه طُرُقًا أخرى قوية تقدم تخريجها هناك. وقد نقص من هذه الرواية ذكر رجلين من العشرة، وهما سعيد بن زيد وأبو عبيدة عامر بن الجراح. أحمد بن يونس: هو أحمد بن عبد الله بن يونس اليَرْبُوعي، وحُصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلمي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا مرفوع حصہ صحیح ہے، اور اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن نسائی اور دارقطنی نے یقین سے کہا ہے کہ ہلال بن یساف نے اسے عبداللہ بن ظالم سے نہیں سنا (جیسا کہ نمبر 5469 پر بیان ہوا)۔ البتہ مرفوع حصے کے دیگر قوی طرق ہیں جن کی تخریج وہاں گزر چکی ہے۔ اس روایت میں عشرہ مبشرہ میں سے دو افراد (سعید بن زید اور ابو عبیدہ بن جراح) کا ذکر رہ گیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: احمد بن یونس سے مراد احمد بن عبداللہ بن یونس الیربوعی، اور حصین سے مراد ابن عبدالرحمن السلمی ہیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6011 in Urdu