🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
658. وصف الموت فى حالة النزع
جان کنی کے وقت موت کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6028
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن هشام بن الكَلْبي، عن عَوَانة بن الحَكَم، قال: كان عمرو بن العاص يقول: عجبًا لمن نَزَلَ به الموتُ وعقلُه معه كيف لا يَصِفُه؟ فلما نَزَلَ به الموتُ قال له ابنه عبد الله بن عَمرو: يا أبَةِ، إنك كنتَ تقول: عَجَبًا لمن نَزَلَ به الموتُ وعقله معه كيف لا يَصِفُه؟! فصِفْ لنا الموتَ وعقْلُك معك، فقال: يا بُنيّ، الموتُ أجَلُّ من أن يُوصَف، ولكني سأصِفُ لك منه شيئًا: أجِدُني كأَنَّ على عنقي جِبَالَ رَضْوَى، وأجِدُني كأَنَّ في جَوفي شَوكَ السُّلّاء، وأجِدُني كأنَّ نَفْسي تَخرُج مِن ثَقْبِ إِبْرَةٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5915 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عوانہ بن حکم فرماتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: تعجب ہے اس شخص پر جس پر موت کا عالم طاری ہو، اس کی عقل بھی سلامت ہو اور وہ موت کی کیفیات بیان نہ کر سکے۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے بیٹے عبداللہ نے ان سے کہا: ابا جان، آپ کی عقل سلامت ہے، آپ ہمیں موت کی کیفیات سے آگاہ کیجئے۔ آپ نے فرمایا: اے بیٹے! موت کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی، البتہ میں اس وقت جو محسوس کر رہا ہوں وہ تمہیں بیان کر دیتا ہوں۔ مجھے یوں لگ رہا ہے رضوی پہاڑ میری گردن پر رکھ دیا گیا ہے، اور میرے جسم میں لوہے کی خاردار تار داخل کر دی گئی ہے، اور یوں لگ رہا ہے جیسے میری جان سوئی کے ناکے میں سے نکالی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6028]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6028 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده تالف، محمد بن عمر الواقدي وشيخه هشام متروكان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (شدید ضعیف/تباہ حال) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس میں محمد بن عمر الواقدی اور ان کے شیخ ہشام (بن الکلبی) دونوں "متروک" راوی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 5/ 81 عن هشام بن محمد بن السائب الكلبي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (جلد 5، صفحہ 81) میں ہشام بن محمد بن السائب الکلبی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البَلاذُري في "أنساب الأشراف" 10/ 279 عن حفص بن عمر العُمري، عن هشام بن الكلبي، به. وأخرج نحوه ابن أبي الدنيا في "المتمنِّين" (93)، وفي "المُحتضَرين" (103) عن أبي زيد بن عمر بن شبَّة النُّميري، عن أبي غسان محمد بن يحيى الكِناني، عن عبد العزيز بن عمران الزُّهري، عن معاوية بن محمد بن عبد الله بن بَحِير بن رَيْسان، عن أبيه، قال: لما حضرت عَمرَو بن العاص الوفاةُ قال له ابنُه … وعبد العزيز بن عمران متروك متّهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بلاذری نے "انساب الاشراف" (جلد 10، صفحہ 279) میں حفص بن عمر العمری از ہشام بن الکلبی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز ابن ابی الدنیا نے "المتمنین" (رقم 93) اور "المحتضرین" (رقم 103) میں اسے روایت کیا ہے (سند: ابو زید بن عمر بن شبہ النمیری از ابو غسان محمد بن یحییٰ الکنانی از عبد العزیز بن عمران الزہری از معاویہ بن محمد... الخ)۔ 🔍 فنی نکتہ: اس سند میں موجود راوی "عبد العزیز بن عمران الزہری" متروک اور متہم ہے۔
والسُّلاء: شوك النخل، واحدها سُلَّاءَة، وإضافة السُّلاء إلى الشوك للتخصيص.
📝 لغوی تحقیق: لفظ "السُّلاء" سے مراد کھجور کے کانٹے ہیں، اس کا واحد "سُلَّاءَة" آتا ہے۔ یہاں "السُّلاء" کی اضافت جو "الشوک" (کانٹے) کی طرف کی گئی ہے، وہ تخصیص (وضاحت) کے لیے ہے۔