المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
658. وصف الموت فى حالة النزع
جان کنی کے وقت موت کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 6029
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي مريم، حَدَّثَنَا الليث وابن لَهِيعة، قالا: أخبرنا ابن أبي حَبِيب، عن سُوَيد بن قيس التُّجِيبي، عن زُهير بن قيس البَلَوِيَّ، عن علقمة بن رِمْثةَ البَلَويّ، أنه قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ عمرَو بن العاص إلى البَحرَين، ثم خرج رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة وخَرجْنا معه، فنَعَسَ رسولُ الله ﷺ ثم استيقظ، فقال:"رَحِمَ الله عمرًا" قال: فتذاكَرْنا كلَّ إنسانٍ اسمُه عمرو، فنَعَس ثانيًا، فاستيقظ فقال:"رَحِمَ الله عمرًا"، ثم نَعَس الثالثةَ، ثم استيقظ فقال:"رَحِمَ الله عمرًا" فقلنا: من عَمرٌو يا رسول الله؟ قال:"عَمرُو بن العاص" قالوا: ما بالُه؟ قال:"ذَكَرتُه، إني كنتُ إذا نَدَبتُ الناسَ إلى الصَّدقة، جاء بالصَّدقة فأجْزَلَ، فأقولُ له: مِن أين لكَ هذا؟ فيقول: مِن عندِ الله، وصَدَقَ عَمْرٌو؛ إنَّ لعَمرٍو خيرًا كثيرًا". قال زُهير: فلما كانت الفِتنةُ قلتُ: أَتَّبِعُ هذا الذي قال رسولُ الله ﷺ [فيه] ما قال، فلم أُفارِقُه (1) (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5916 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5916 - صحيح
علقمہ بن رمثہ بلوی فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بحرین کی جانب بھیجا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی مہم میں روانہ ہوئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی، پھر آپ اونگھ سے بیدار ہو گئے پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے، راوی کہتے ہیں: ہم نے ہر شخص کو یاد کیا جس کا نام عمرو تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پھر اونگھ آئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونگھ سے بیدار ہوئے تو پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے۔ تیسری مرتبہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی، اور جب بیدار ہوئے یہی فرمایا: اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون عمرو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو بن العاص۔ صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یاد آ رہا ہے کہ میں جب بھی لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دلایا کرتا تھا تو عمرو بن العاص بہت دل کھول کر صدقہ کیا کرتا تھا، میں اس سے پوچھتا کہ عمرو یہ سب تمہارے پاس کہاں سے آیا تو وہ کہتا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ واقعی عمرو سچ کہتا تھا، بے شک عمرو کے لئے ” خیر کثیر “ ہے۔ سیدنا زہیر فرماتے ہیں: جب فتنہ کا وقت آیا تو میں نے کہا: میں اس شخص کی پیروی کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عمل کو پسند کیا ہے، میں اس سے جدا نہیں ہوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6029]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6029 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف قوله: أفارقه في نسخنا إلى: أعرفه والتصويب من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان، ومن مصادر تخريج الخبر.
🔍 فنی نکتہ: ہمارے نسخوں میں لفظ "أفارقه" (میں اس سے جدا ہوں گا) تحریف ہو کر "أعرفه" (میں اسے پہچانتا ہوں) بن گیا تھا۔ اس کی تصحیح نسخہ محمودیہ (طبع میمانی) اور حدیث کی تخریج کے دیگر مصادر سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف، زهير بن قيس انفرد بالرواية عنه سويد بن قيس، وهو أمير معروف قُتل ببَرْقةَ، لكنه في الرواية مجهول، ولذلك جهَّله الحسيني في "الإكمال" والذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 813 وقال البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 40: لا يعرف لزهير سماع من علقمة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس کی وجہ یہ ہے کہ راوی "زہیر بن قیس" سے روایت کرنے میں سوید بن قیس منفرد ہیں۔ اگرچہ زہیر ایک مشہور امیر تھے جو "برقہ" کے مقام پر قتل ہوئے، لیکن روایتِ حدیث میں یہ "مجہول" (نامعلوم) ہیں۔ اسی لیے حسینی نے "الاکمال" میں اور ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (جلد 2، صفحہ 813) میں انہیں مجہول قرار دیا ہے۔ امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (جلد 7، صفحہ 40) میں فرمایا: "زہیر کا علقمہ سے سماع معروف نہیں ہے۔"
الليث: هو ابن سعد، وابنُ لَهِيعة: هو عبد الله، وابن أبي حبيب: هو يزيد.
🔍 تعیینِ رواۃ: یہاں "اللیث" سے مراد لیث بن سعد، "ابن لہیعہ" سے مراد عبد اللہ بن لہیعہ اور "ابن ابی حبیب" سے مراد یزید بن ابی حبیب ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 19/ 112 من طريق إسحاق بن إبراهيم التُّجيبي، عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (جلد 19، صفحہ 112) میں اسحاق بن ابراہیم التجیبی کے واسطے سے سعید بن ابی مریم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 9/ 504، والبخاري في "تاريخه الكبير" 7/ 40، وابن عبد الحكم في "فتوح مصر" ص 513، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 2/ 512، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (797) و (2613)، وأبو بكر الخلال في "السُّنّة" (688)، والطبراني في "الكبير" 18/ (1)، وأبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (5449)، وابن عساكر 19/ 112 و 113 و 46/ 140 من طُرق عن الليث بن سعد وحده، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (9/ 504)، امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (7/ 40)، ابن عبد الحکم نے "فتوح مصر" (ص 513)، یعقوب بن سفیان نے "المعرفۃ والتاریخ" (2/ 512)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (رقم 797، 2613)، ابوبکر الخلال نے "السُّنۃ" (رقم 688)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (جلد 18، رقم 1)، ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (رقم 5449) اور ابن عساکر (19/ 112، 113 اور 46/ 140) نے مختلف طرق سے تنہا "لیث بن سعد" سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 18/ (2)، ومن طريقه أبو نعيم في "المعرفة" (5450) من طريق أبي الأسود النضر بن عبد الجبار، عن ابن لَهِيعة وحده، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (جلد 18، رقم 2) میں اور انہی کے طریق سے ابونعیم نے "المعرفہ" (رقم 5450) میں ابو الاسود نضر بن عبد الجبار کے واسطے سے تنہا "ابن لہیعہ" سے روایت کیا ہے۔