المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
665. حكاية السنور تأكل طعام أبى أيوب وكلامها
بلی کے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا کھانا کھانے اور اس سے متعلق واقعہ کا بیان
حدیث نمبر: 6045
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن بكر المؤذِّن ببيت المَقدِس، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن موسى اللَّاحُوني، حَدَّثَنَا يوسف بن محمد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مسلم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس، قال: كان رسولُ الله ﷺ نازلًا على أبي أيوب الأنصاري في غرفة، وكان طعامُه في سلَّةٍ في المِخْدَع، فكانت تجيء من الكَوَّةُ كهيئة السِّنَّور حتَّى تأخذ الطعام في السَّلة، فشكا ذلك إلى رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"تلك الغُولُ، فإذا جاءت فقل: عَزَمَ عليكِ رسولُ الله أن لا تَبْرَحي". قال: فجاءت، فقال لها أبو أيوب: عَزَمَ عليكِ رسول الله ﷺ أن لا تَبْرحي، فقالت: يا أبا أيوب، دَعْني هذه المرةَ، فوالله لا أعودُ، فتركها، فأتى رسولَ الله ﷺ فأخبَره، قالت ذلك مرتين، قالت: هل لك أن أُعلِّمَكَ كلماتٍ إِذا قُلتَهنَّ لا يَقرَبُ بيتَك شيطانٌ تلك الليلةَ وذلك اليومَ ومن غدٍ؟ قال: نعم، قالت: اقرأْ آيةَ الكرسي: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255] ، قال: فأتى رسولَ الله ﷺ فأخبره، قال: فقال:"صَدَقَت وهي كَذُوبٌ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5932 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5932 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر ایک کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ کا کھانا کوٹھڑی کے اندر ایک ٹوکری میں رکھا جاتا تھا، کھڑکی سے بلی اندر آتی اور ٹوکری میں سے کھانا کھا جاتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بلی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک چڑیل ہے، اب اگر آئے تو اس کو کہنا تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ آئندہ ادھر نہیں آنا، راوی کہتے ہیں: وہ بلی دوبارہ آئی، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ دوبارہ ادھر نہ آنا، اس نے کہا: اے ابوایوب! اب کی مرتبہ مجھے چھوڑ دو، میں دوبارہ نہیں آؤں گی۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اس کو چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر وہ واقعہ سنایا۔ وہ بلی دو مرتبہ آئی تھی اور دونوں مرتبہ اس نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہا تھا اور تیسری مرتبہ اس نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں تمہیں ایسی چیز بتا دوں کہ اگر تم وہ پڑھ لو تو اس دن اور رات کوئی سرکش جن اور شیطان تمہارے گھر کے قریب نہیں آئے گا، انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا آیۃ الکرسی یعنی اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم پڑھ لیا کرو، راوی کہتے ہیں، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تھی تو جھوٹی، لیکن بات سچی بتا گئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6045]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6045 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
ومن حديث أبي أيوب نفسه بإسناد ضعيف، وهو الآتي بعد حديث أبي عمرة.
🧩 متابعات و شواہد: خود حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی ایک اور ضعیف سند کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے، جو کہ حضرت ابو عمرہ کی حدیث کے بعد مذکور ہے۔
وصحَّ نحوها من حديث أبي هريرة، وصاحبها هو أبو هريرة، علَّقها البخاري في "صحيحه" بصيغة الجزم (2311) و (3275) و (5010)، ووصلها النسائي (7963) و (10728) و (10729).
⚖️ درجۂ حدیث: اسی طرح کی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے "صحیح" ثابت ہے اور اس واقعے کے مرکزی راوی (صاحبِ قصہ) وہی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے "صحیح بخاری" میں (2311)، (3275) اور (5010) پر بصيغۂ جزم بطورِ تعلیق ذکر کیا ہے، جبکہ امام نسائی نے اسے (7963)، (10728) اور (10729) پر متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد رويت قصص مشابهة عن غير واحد من الصحابة أيضًا، كل واحد منهم هو صاحب القصة، لكن لا يخلو إسناد كل منها من ضعف، منها:
🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح کے ملتے جلتے واقعات ایک سے زائد صحابہ کرام سے بھی مروی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو واقعے کا مرکزی کردار بتایا گیا ہے، تاہم ان میں سے ہر ایک کی سند میں کچھ نہ کچھ ضعف (کمزوری) موجود ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
عن أُبي بن كعب، وتقدَّمت عند المصنّف برقم (2088).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت، جو مصنف (امام احمد) کے ہاں پہلے حدیث نمبر (2088) پر گزر چکی ہے۔
وعن معاذ بن جبل، وتقدَّمت أيضًا برقم (2093).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت، یہ بھی پہلے حدیث نمبر (2093) پر گزر چکی ہے۔
وعن أبي أُسيد الساعدي عند الطبراني في "الكبير" 19/ (585).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابو اسید الساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت، جسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (19/ 585) میں نقل کیا ہے۔
وعن زيد بن ثابت عند ابن أبي الدنيا في "الهواتف" (164)، وفي "مكايد الشيطان" (15).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت، جسے ابن ابی الدنیا نے "الہواتف" (164) اور "مکاید الشیطان" (15) میں روایت کیا ہے۔
وقد حمل الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 7/ 204 هذه الأحاديث على تعدد الحادثة، وعليه فالصحيح منها حديث أبي هريرة، ودونه حديث أبي أيوب، والباقي ضعيف، وإذا حملناه على أنه قصة واحدة، فبمجموع هذه الطرق والشواهد يصح الحديث، وصاحب القصة يكون أبا هريرة أو أبا أيوب، والله تعالى أعلم.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: حافظ ابن حجر عسقلانی نے "فتح الباری" (7/ 204) میں ان احادیث کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے انہیں "تعددِ واقعہ" (یعنی یہ واقعات الگ الگ پیش آئے) پر محمول کیا ہے۔ اس بنیاد پر ان میں سب سے صحیح روایت حضرت ابوہریرہ کی ہے، اس کے بعد حضرت ابو ایوب کی روایت کا درجہ ہے، جبکہ باقی روایات ضعیف ہیں۔ لیکن اگر ہم اسے ایک ہی واقعہ مانیں تو ان تمام طرق اور شواہد کے مجموعے سے یہ حدیث "صحیح" قرار پاتی ہے، اور قصے کے مرکزی راوی یا تو حضرت ابوہریرہ ہیں یا حضرت ابو ایوب انصاری۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يوسف بن محمد وإبراهيم بن مسلم لم نتبينهما، وإبراهيم بن بكر المؤذن يغلب على الظن أنه أبو إسحاق المروزي، ذكره الخطيب في "المتفق والمفترق" وقال: روى عنه العبّاس بن الأصم وأبو حامد الحسنويي النيسابوريان.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، اگرچہ یہ سند بذاتِ خود ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی یوسف بن محمد اور ابراہیم بن مسلم کے حالات واضح نہیں ہو سکے۔ جہاں تک ابراہیم بن بکر المؤذن کا تعلق ہے تو غالب گمان یہی ہے کہ وہ ابو اسحاق المروزی ہیں، جن کا ذکر خطیب بغدادی نے "المتفق والمفترق" میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان سے عباس بن الاصم اور ابو حامد الحسنوی نیشاپوری نے روایت کی ہے۔
ولقصة أبي أيوب هذه شاهد من حديث أبي عمرة الأنصاري بإسناد حسن، وسيأتي بعد هذا.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے اس قصے کا ایک "شاہد" (تائیدی روایت) حضرت ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ملتا ہے جو کہ حسن سند کے ساتھ ہے اور اس کے بعد عنقریب آئے گی۔