المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
678. كان أبو موسى الأشعري من الفقهاء
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فقہاء صحابہ میں سے تھے
حدیث نمبر: 6071
حدثني أبو زُرْعة الرازي، حَدَّثَنَا محمد بن عُمير، حَدَّثَنَا ابن البَرْقي، حَدَّثَنَا عَمرو بن أبي سَلَمة، عن سعيد بن عبد العزيز التَّنُوخي قال: قَدِمَ أبو موسى الأشعري على النَّبِيِّ ﷺ، فدعا النَّبِيُّ ﷺ لأكبر أهلِ السفينة وأصغرهم، قال أبو عامر الأشعري: أنا أكبرُ أهل السفينة، وابني أصغرُهم، قال سعيد: وكان فيهم أبو عامر وأبو مالك وأبو موسى وكعب بن عاصم، أظنُّهم خرجوا بالأَبْواء (1) .
سعید بن عبدالعزیز تنوخی فرماتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشتی کے سواروں میں سے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے آدمی کے لئے دعا فرمائی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں سب سے بڑا میں تھا اور سب سے چھوٹا میرا بیٹا تھا۔ سیدنا سعید بن عبدالعزیز فرماتے ہیں: ان میں ابوعامر، ابومالک، ابوموسیٰ اور کعب بن عاصم بھی تھے، میرا خیال ہے کہ وہ مقام ابواء کی طرف چلے گئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6071]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6071 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه بين سعيد بن عبد العزيز التنوخي وبين أبي موسى الأشعري. أبو زرعة: هو أحمد بن الحسين بن علي الحافظ، وابن البرقي: هو أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم. وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 25/ 433 من طريق سليمان بن أحمد الطبراني، عن بكر بن سهل، عن عبد الله بن يوسف، عن سعيد بن عبد العزيز التنوخي قال: قدم أبو موسى … فذكره.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ سعید بن عبد العزیز التنوخی اور حضرت ابو موسیٰ کے درمیان "انقطاع" (سند کا ٹوٹنا) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو زرعہ سے مراد احمد بن الحسین بن علی الحافظ ہیں، اور ابن البرقی سے مراد احمد بن عبد اللہ بن عبد الرحیم ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابن عساکر نے اسے امام طبرانی کے طریق سے سعید بن عبد العزیز سے روایت کیا ہے۔
وأورده الهيثمي في "المجمع" 9/ 358 وقال: رواه الطبراني منقطع الإسناد، وإسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: علامہ ہثیمی نے "مجمع الزوائد" (9/ 358) میں فرمایا ہے کہ اگرچہ امام طبرانی کی یہ روایت منقطع ہے، لیکن اس کے راویوں کی بنیاد پر سند "حسن" ہے۔