المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
688. قتل حجر بن عدي فى موالاة على
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی وجہ سے قتل کیا گیا
حدیث نمبر: 6095
حَدَّثَنَا أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسن بن قُتَيبة العَسْقلاني، حَدَّثَنَا محمد بن مِسْكِين اليَمَامي، حَدَّثَنَا عُبادة (1) بن عمر، حَدَّثَنَا عِكْرِمة بن عمّار، حَدَّثَنَا مَخْشِيُّ بن حُجْر بن عَدِيٍّ (2) ، عن أبيه: أنَّ نبي الله ﷺ خَطَبَهم فقال:"أيُّ يومٍ هذا؟" قالوا: يومٌ حرام، قال:"فأيُّ بلدٍ هذا؟" قالوا: بلدٌ حرام، قال:"فأيُّ شهرٍ؟" قالوا: شهر حرام، قال:"فإنَّ دماءَكم وأموالكم وأعراضكم حرام عليكم كحرمة يومِكم هذا، كحُرمةِ شهرِكم هذا، كحُرمةِ بَلَدِكم هذا، لِيُبلِّغ الشاهدُ الغائبَ، لا تَرجِعُوا بعدي كفّارًا يضربُ بعضُكم رِقابَ بعض" (3) .
مخشی بن حجر بن عدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ شہر کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی حرمت ہے، جیسے اس مہینے کی حرمت ہے، جیسے اس شہر کی حرمت ہے۔ تم میں سے جو لوگ اس وقت یہاں موجود ہیں ان کو چاہیے کہ یہ باتیں ان لوگوں تک بھی پہنچا دیں جو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں۔ تم میرے بعد کفر میں مت لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6095]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6095 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في الأصول الخطية إلى: عباد، والتصويب من مصادر ترجمته، ومصادر التخريج، وهو عُبادة بن عمر بن أبي ثابت السلولي.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں "عباد" تحریف ہو گیا ہے، جبکہ درست نام "عبادہ بن عمر بن ابی ثابت السلولی" ہے جیسا کہ تراجم کے مراجع سے واضح ہے۔
(2) كذا وقع مسمًّى عند المصنِّف هنا، وهو وهمٌ، فمخشي ليس ابن حجر بن عدي، وإنما هو ابن حجير، بالتصغير، ويقال: حجر، بغير تصغير كما في "الإصابة" لابن حجر 2/ 41، وقال ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 176: حجير الهلالي، ويقال: إنه حنفي، وقد قيل: إنه من ربيعة بن نزار، وهو أبو مخشي بن حجير. قلنا: أما حُجْر بن عَديّ فله صحبة ووِفادة إلى النَّبِيّ ﷺ لكن ما روى عنه شيئًا، قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 483.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں یہاں "مخشی بن حجر بن عدی" نام آیا ہے جو کہ "وہم" ہے؛ کیونکہ مخشی، حجر بن عدی کے بیٹے نہیں بلکہ "ابن حجیر" (تصغیر کے ساتھ) ہیں۔ حافظ ابن حجر اور ابن عبد البر کے مطابق یہ حجیر الہلالی ہیں اور مخشی ان کے بیٹے ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: جہاں تک حجر بن عدی کا تعلق ہے، ان کی نبی ﷺ سے ملاقات (وفادہ) ثابت ہے مگر ان سے کوئی روایت مروی نہیں ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" میں صراحت کی ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه لينٌ لجهالة مخشي بن حجير، فلا يُعرَف إلّا بهذا الحديث، ولم نقف له على ترجمة، وعبادة بن عمر مجهول الحال لكنه متابع. أبو علي: هو الحسين بن علي النيسابوري الحافظ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے، البتہ اس سند میں مخشی بن حجیر کے مجہول ہونے کی وجہ سے تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مخشی صرف اسی حدیث سے پہچانے جاتے ہیں اور ہمیں ان کا ترجمہ نہیں مل سکا، جبکہ عبادہ بن عمر بھی مجہول الحال ہیں مگر یہاں ان کی متابعت موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو علی سے مراد حافظ الحسین بن علی النیشاپوری ہیں۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1682) عن محمد بن مسكين، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (1682) میں محمد بن مسکین کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" كما في "بغية الباحث" (386) - ومن طريقه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2307) - عن عبد الله بن الرومي، عن عبادة بن عمر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی "مسند" میں اور ان کے طریق سے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (2307) میں عبد اللہ بن الرومی عن عبادہ بن عمر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (3572)، وابن منده في "معرفة الصحابة" 1/ 435 من طريق النضر بن محمد الجرشي، عن عكرمة بن عمار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (3572) اور ابن مندہ نے "معرفۃ الصحابہ" میں النضر بن محمد الجرشی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد من حديث عبد الله بن عمر عند البخاري (4403)، ومسلم (66)، وسلف عند المصنّف برقم (3315).
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جو بخاری (4403) اور مسلم (66) میں ہے، اور مصنف کے ہاں پہلے نمبر (3315) پر گزر چکی ہے۔
وعن ابن عبّاس عند البخاري (1739)، وسلف برقم (1760 م).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ شاہد مروی ہے جو بخاری (1739) اور پہلے نمبر (1760 م) پر موجود ہے۔
وعن جرير بن عبد الله البجلي عند البخاري (121)، ومسلم (65). وعن أبي بكرة عند البخاري (4406)، ومسلم (1679).
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح جریر بن عبد اللہ البجلی اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہما سے مروی روایات بخاری و مسلم کے مذکورہ مقامات پر موجود ہیں۔