المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
702. ذكر مناقب عبد الله بن أبى بكر الصديق - رضي الله عنهما -
سیدنا عبد اللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6130
أخبرني عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الخُزَاعي بمكة، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن الوليد الأزْرَقي، حَدَّثَنَا داود بن عبد الرحمن العطّار، حدثني عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن يوسف بن ماهَك، عن حفصة بنت عبد الرحمن بن أبي بكر، عن أبيها: أنَّ النَّبِيّ الله قال لعبد الرحمن بن أبي بكر:"أَرْدِفْ أُختَك عائشةَ فَأَعمِرُها من التنعيم، فإذا هَبَطَتَ الأَكَمَةَ فَمُرْها فلتُحرِمْ، فإنها عُمرةٌ مُتَقَبَّلة" (1) . ذكرُ مناقب عبد الله بن أبي بكر الصِّديق ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6017 - إسناده قوي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6017 - إسناده قوي
حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: اپنی بہن عائشہ کو اپنے ساتھ بٹھا لو اور تنعیم سے اس کو عمرہ کراؤ، اور جب پہاڑی سے نیچے اترو تو اس کو کہو کہ احرام باندھ لیں کیونکہ یہ استقبالیہ عمرہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6130]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6130 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح حدیث" ہے اور عبد اللہ بن عثمان بن خثیم کی موجودگی کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1710)، وأبو داود (1995) من طريقين عن داود بن عبد الرحمن العطار، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1710) اور ابو داؤد (1995) نے داؤد بن عبد الرحمن العطار کے واسطے سے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد (1705)، والبخاري (1784) و (2985)، ومسلم (1212)، وابن ماجه (2999)، والترمذي (934)، والنسائي (4216) من طريق عمرو بن أوس الثقفي، عن عبد الرحمن بن أبي بكر قال: أمرني رسول الله ﷺ أن أُردف عائشة، وأُعمرَها من التنعيم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے عمرو بن اوسط الثقفی کے طریق سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں حضرت عائشہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھاؤں اور انہیں مقامِ تنعیم سے عمرہ کرواؤں"۔
وأخرج أحمد (1709) من طريق أبي نجيح، عمن سمع عبد الرحمن بن أبي بكر يقول: قال رسول الله ﷺ: "أَرحِلْ هذه الناقة ثم أَردِف أختك، فإذا هبطتُما من أَكَمة التنعيم فأهلَّا وأقبِلا" وذلك ليلة الصَّدَر. وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ عبد الرحمن سے روایت کرنے والا راوی "مبہم" (نا معلوم) ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: آپ ﷺ نے فرمایا: "اس اونٹنی پر کجاوہ کسو اور اپنی بہن کو پیچھے بٹھاؤ، جب تم تنعیم کی پہاڑی سے اترو تو احرام باندھ کر لبیک کہو اور (مکہ کی طرف) آ جاؤ"۔ یہ لیلۃ الصدر (واپسی کی رات) کا واقعہ ہے۔
وأخرج أحمد (1709) من طريق أبي نجيح، عمن سمع عبد الرحمن بن أبي بكر يقول: قال رسول الله ﷺ: "أَرحِلْ هذه الناقة ثم أَردِف أختك، فإذا هبطتُما من أَكَمة التنعيم فأهلَّا وأقبِلا" وذلك ليلة الصَّدَر. وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن عبد الرحمن. وفي الباب عن جابر بن عبد الله، تقدَّم برقم (1786).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند بھی سابقہ علت (راوی کے مبہم ہونے) کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت پہلے نمبر (1786) پر گزر چکی ہے۔