المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
724. مخرمة كان عالما بأنساب قريش
سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ قریش کے انساب کے بڑے عالم تھے
حدیث نمبر: 6185
وحدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُستَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: شهد مَخرمةُ بنُ نوفل مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فأعطاه من غنائم حُنين خمسين بعيرًا. ومات مخرمةُ بالمدينة سنة أربع وخمسين، وكان يومَ مات ابنَ مئةٍ وخمسَ عشرةَ سنة (1) .
محمد بن عمر فرماتے ہیں کہ سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ حنین میں شریک ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنگ حنین کی غنیمت میں سے پچاس اونٹ عطا فرمائے۔ سیدنا مخرمہ 115 برس کی عمر میں 54 ہجری کو مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6185]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6185 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وذكره عن محمد بن عمر الواقدي أيضًا تلميذه محمد بن سعد في "الطبقات" 6/ 70، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 57/ 156، وزاد فيه عن الواقدي قال: ورأيت عبدَ الله بن جعفر - يعني ابن عبد الرحمن بن المسور بن مخرمة العلّامة المحدِّث - ينكر أن يكون مخرمةُ أخذ من ذلك شيئًا وقال: ما سمعت أحدًا من أهلي يذكر ذلك.
📝 نوٹ / توضیح: اسے واقدی سے ان کے شاگرد ابن سعد نے 'الطبقات' (6/ 70) میں ذکر کیا ہے، جہاں محدث عبد اللہ بن جعفر (بن عبد الرحمن بن مسور) اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مخرمہ نے اس میں سے کچھ لیا تھا اور کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو یہ تذکرہ کرتے نہیں سنا۔