🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

724. مَخْرَمَةُ كَانَ عَالِمًا بِأَنْسَابِ قُرَيْشٍ
سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ قریش کے انساب کے بڑے عالم تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6182
فحدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: أسلمَ مَخرمةُ بن نوفل عند فتح مكّة، وكان عالمًا بنَسَب قريش وأحاديثِها، وكانت له معرفةٌ بأنصاب الحَرَم (2) ، فوَلَدَ مخرمةُ صفوانَ، وبه كان يُكنَى، وهو الأكبر من ولده.
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے، وہ قریش کے نسب اور ان کی تاریخ کے بڑے عالم تھے اور انہیں حدودِ حرم کے نشانات کی بھی گہری پہچان تھی، ان کے ہاں بیٹے صفوان پیدا ہوئے جن کی نسبت سے ان کی کنیت ابو صفوان پڑی اور وہ ان کی سب سے بڑی اولاد تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6182]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6182] [ترقيم الشركة 6122]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6183
فسمعت أبا زكريا يحيى بن محمد العَنبَري يقول: سمعت أبا عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي يقول: سمعت يحيى بن عبد الله بن بُكَير يقول: مَخرَمةُ بن نوفل يُكنَى أبا المِسوَر.
یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر سے روایت ہے کہ سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو المسور بھی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6183]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6183] [ترقيم الشركة 6123]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6184
حَدَّثَنَا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل التِّرمِذي، حَدَّثَنَا مَخلَد بن مالك، حَدَّثَنَا الليث بن سعد وعَطَّاف بن خالد، عن ابن أبي مُلَيكة قال: أخبرني المِسوَر بن مَخرَمة قال: قال النَّبِيّ ﷺ لأبي (1) :"يا أبا صفوان" (2) .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے ابو صفوان۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6184]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل مخلد بن مالك: وهو ابن شيبان الحراني، وأما شيخه عطاف بن خالد فإنه صدوق حسن الحديث ليس بذاك المتين، لكنه متابع. قلنا: ويغلب على ظننا أنَّ اللفظ المساق هنا بذكر تكنية مخرمة بأبي صفوان هو لعطاف بن خالد، فقد روى القصة غير واحد عن الليث بن ...» [ترقيم الرساله 6184] [ترقيم الشركة 6124]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6185
وحدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُستَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: شهد مَخرمةُ بنُ نوفل مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فأعطاه من غنائم حُنين خمسين بعيرًا. ومات مخرمةُ بالمدينة سنة أربع وخمسين، وكان يومَ مات ابنَ مئةٍ وخمسَ عشرةَ سنة (1) .
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حنین کے مالِ غنیمت میں سے پچاس اونٹ عطا فرمائے، ان کی وفات 54 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور بوقتِ وفات ان کی عمر ایک سو پندرہ سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6185]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6185] [ترقيم الشركة 6125]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6186
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهرانَ بن خالد قال: سمعتُ سعيدَ بن عُفَير، يقول: تُوفِّي مَخرمةُ بن نوفل القُرشي وهو ابن خمسَ عشرةَ ومئةٍ، وكان أسلمَ يومَ الفتح، وهو من المؤلَّفة قلوبُهم (2) .
سعید بن عفیر سے روایت ہے کہ سیدنا مخرمہ بن نوفل قرشی رضی اللہ عنہ کی وفات ایک سو پندرہ سال کی عمر میں ہوئی، وہ فتح مکہ کے دن اسلام لائے تھے اور ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جن کی تالیفِ قلب کی گئی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6186]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وكان سعيد بن عفير» [ترقيم الرساله 6186] [ترقيم الشركة 6126]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6187
حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكِّي، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بكّار، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله الزُّهْري قال: قال معاويةُ بن أبي سفيان وعنده عبد الرحمن بن أزهرَ: من لي بمخرمةَ بن نوفل؟ [ما] (3) يَضعُني من لسانه تنقُّصًا، فقال له عبد الرحمن بن أزهر: أنا أكفِيكَه، فبلغ ذلك مخرمةَ، فقال: جعلني عبدُ الرحمن يتيمًا في حَجْره، يَزْعُم لمعاوية (4) أنه يَكفيهِ إِيَّاي! فقال له ابن البَرْصاء اللَّيثي: إنه عبد الرحمن بن أزهر، فرفع عصًا في يده وضربه فشجَّه وقال: أعدوُّنا (5) في الجاهلية وتَحسُدُنا في الإسلام وتدخلُ بيني وبين ابن الأزهر؟! (1)
عبدالرحمن بن عبداللہ زہری سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے اس حال میں کہ ان کے پاس عبدالرحمن بن ازہر موجود تھے، فرمایا: کوئی ہے جو مجھے مخرمہ بن نوفل کے معاملے میں کفایت کرے؟ کیونکہ وہ اپنی زبان سے میری تنقیص کرتے رہتے ہیں، تو عبدالرحمن بن ازہر نے کہا: میں آپ کے لیے ان کی طرف سے کافی ہوں، جب یہ بات سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: کیا عبدالرحمن نے مجھے اپنے زیرِ کفالت یتیم سمجھ رکھا ہے کہ وہ معاویہ کے سامنے میرا ذمہ لے رہا ہے! اس پر ابن برصاء لیثی نے ان سے کہا کہ وہ عبدالرحمن بن ازہر ہی ہیں (جنہوں نے یہ بات کہی)، تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ میں پکڑی لاٹھی اٹھائی اور انہیں (ابن ازہر کو) دے ماری جس سے ان کا سر زخمی ہو گیا اور فرمایا: کیا تم جاہلیت میں ہمارے دشمن تھے اور اب اسلام میں ہم سے حسد کرتے ہو اور میرے اور ابن ازہر کے درمیان دخل اندازی کرتے ہو؟! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6187]
تخریج الحدیث: «إسناده معضل، فإنَّ عبد الرحمن بن عبد الله الزهري هذا لم يدرك زمن معاوية، وهو شيخ للزبير مجهول الحال، وذكره ابن حبان في "ثقاته" 7/ 83.» [ترقيم الرساله 6187] [ترقيم الشركة 6127]

الحكم على الحديث: إسناده معضل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6188
حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم بن الفضل، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بكّار قال: لما حَضَرَت مخرمةَ بن نوفل الوفاةُ بَكَتْه ابنتُه، فقالت: وا أَبَتاه، كان هيِّنًا ليِّنًا فأفاق فقال: مَن النادبةُ؟ فقالوا: ابنتُك، فقال: تعالَيْ، فجاءت، فقال: ليس هكذا يُندَبُ مِثلي، قولي: وا أَبتاه، كان شَهمًا شَيظَميًّا، كان أبًا حَصينًا (2) .
زبیر بن بکار سے روایت ہے کہ جب سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی بیٹی ان پر رونے لگی اور کہا: ہائے اباجان! آپ بہت نرم دل اور شفیق تھے، اس پر انہیں افاقہ ہوا اور پوچھا: یہ بین کرنے والی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ کی بیٹی، انہوں نے فرمایا: قریب آؤ، جب وہ آئی تو انہوں نے کہا: مجھ جیسے شخص پر اس طرح بین نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ کہو: ہائے میرے اباجان! جو نہایت بہادر، قوی جثہ اور مضبوط پناہ گاہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6188]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6188] [ترقيم الشركة 6128]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں