المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
724. مخرمة كان عالما بأنساب قريش
سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ قریش کے انساب کے بڑے عالم تھے
حدیث نمبر: 6187
حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكِّي، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بكّار، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله الزُّهْري قال: قال معاويةُ بن أبي سفيان وعنده عبد الرحمن بن أزهرَ: من لي بمخرمةَ بن نوفل؟ [ما] (3) يَضعُني من لسانه تنقُّصًا، فقال له عبد الرحمن بن أزهر: أنا أكفِيكَه، فبلغ ذلك مخرمةَ، فقال: جعلني عبدُ الرحمن يتيمًا في حَجْره، يَزْعُم لمعاوية (4) أنه يَكفيهِ إِيَّاي! فقال له ابن البَرْصاء اللَّيثي: إنه عبد الرحمن بن أزهر، فرفع عصًا في يده وضربه فشجَّه وقال: أعدوُّنا (5) في الجاهلية وتَحسُدُنا في الإسلام وتدخلُ بيني وبين ابن الأزهر؟! (1)
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس عبدالرحمن بن ازہر موجود تھے، سیدنا معاویہ نے کہا: مخرمہ بن نوفل میری بہت برائیاں بیان کرتا ہے، کون شخص اس سے میرا دفاع کرے گا۔ عبدالرحمن بن ازہر نے کہا: میں تمہارا دفاع کروں گا۔ اس بات کی اطلاع سیدنا مخرمہ تک پہنچی تو انہوں نے کہا: عبدالرحمن نے مجھے اپنی گود میں یتیم بنایا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اپنی روزی کے ساتھ میری کفایت کرے گا۔ ابن البرصاء لیثی نے ان سے کہا: وہ عبدالرحمن بن ازہر ہے، اس نے اپنا عصا اٹھا کر اس کے سر پر مارا اور اس کا سر پھوڑ دیا اور کہا: وہ جاہلیت میں ہمارا دشمن تھا اور تم اسلام میں ہم سے حسد کرتے ہو۔ اور میرے اور ابن ازہر کے درمیان پھوٹ ڈالتے ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6187]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6187 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) زيادة لا بدَّ منها من "تاريخ دمشق" 57/ 161 و "الإصابة" لابن حجر في ترجمة مخرمة، حيث ذكراه عن الزبير بن بكار.
📝 نوٹ / توضیح: یہ ایک ضروری اضافہ ہے جو "تاریخ دمشق" اور ابن حجر کی "الاصابہ" (ترجمہ مخرمہ) سے لیا گیا ہے، جہاں انہوں نے اسے زبیر بن بکار سے روایت کیا ہے۔
(4) لفظ "لمعاوية" تحرّف في نسخنا الخطية إلى: بقوته. وجاء على الصواب في النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: لفظ "لمعاویہ" ہمارے قلمی نسخوں میں تحریف ہو کر "بقوتہ" ہو گیا تھا، جبکہ 'نسخہ محمودیہ' اور 'طبعہ میمان' میں یہ درست (لمعاویہ) موجود ہے۔
(5) هكذا في (ص) والنسخة المحمودية، وفي (ز) و (ب): أعدوانًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور نسخہ محمودیہ میں عبارت اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ "أعدوانًا" لکھا ہوا ہے۔
(1) إسناده معضل، فإنَّ عبد الرحمن بن عبد الله الزهري هذا لم يدرك زمن معاوية، وهو شيخ للزبير مجهول الحال، وذكره ابن حبان في "ثقاته" 7/ 83.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'معضل' (سند میں دو یا زائد راویوں کا تسلسل کے ساتھ گر جانا) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد الرحمن بن عبد اللہ الزہری نے حضرت معاویہ کا زمانہ نہیں پایا، اور یہ زبیر بن بکار کے استاد ہیں جو کہ 'مجہول الحال' (نا معلوم حالت) ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" (7/ 83) میں ذکر کیا ہے۔