🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
725. عَطَاءُ النَّبِيِّ مَخْرَمَةَ قَبَاءً
نبی کریم ﷺ کا سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو قبا عطا فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6189
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا مُسلِم بن إبراهيم، حَدَّثَنَا حاتم بن وَرْدان، حَدَّثَنَا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة، عن المِسَور بن مَخرَمة قال: قَدِمَت على النَّبِيّ ﷺ أَقبيَةٌ فقَسَمَها بين أصحابه، فقال لي أَبي: انطلِقْ بنا إليه، فإنه أتته أقبيَةٌ، فتكلَّم أَبي على الباب، فعرف النَّبِيُّ ﷺ صوتَه، فخرج ومعه قَباءٌ، فجعل يقول:"خَبَأتُ لك هذا، خَبَأتُ لك هذا" (3) .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے صحابہ میں تقسیم فرما دیا، میرے والد نے مجھ سے کہا: ”ہمارے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئی ہیں،“ میرے والد نے دروازے پر دستک دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی اور ایک قبا ہاتھ میں لیے باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے: ”میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھا تھا، میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھا تھا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6189]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،مسلم بن إبراهيم: هو الأزدي الفراهيدي، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السَّختياني، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة.» [ترقيم الرساله 6189] [ترقيم الشركة 6129]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6189 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. مسلم بن إبراهيم: هو الأزدي الفراهيدي، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السَّختياني، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مسلم بن ابراہیم سے مراد الازدی الفراہیدی ہیں، ایوب سے مراد ایوب بن ابی تمیمہ السختیانی ہیں، اور ابن ابی ملیکہ سے مراد عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ ہیں۔
وأخرجه البخاري (2657)، ومسلم (1058) (130) عن زياد بن يحيى الحسّاني، عن حاتم بن وردان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (2657) اور امام مسلم (1058) (130) نے زیاد بن یحییٰ الحسانی عن حاتم بن وردان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواه إسماعيل ابن عليّة عن أيوب عند البخاري برقم (6132) فأرسله، لم يذكر فيه المسور بن مخرمة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسے اسماعیل ابن علیہ نے ایوب (سختیانی) سے روایت کیا ہے جو امام بخاری کے ہاں رقم (6132) پر 'مرسل' ہے، اس میں مسور بن مخرمہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
وأخرجه أحمد (31/ 18927)، والبخاري (2599) و (5800)، ومسلم (1058) (129)، وأبو داود (4028)، والترمذي، (2818)، والنسائي (9584)، وابن حبان (4817) و (4818) من طريق الليث بن سعد، عن ابن أبي مليكة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (31/ 18927)، بخاری (2599، 5800)، مسلم (1058) (129)، ابو داود (4028)، ترمذی (2818)، نسائی (9584) اور ابن حبان (4817، 4818) نے لیث بن سعد عن ابن ابی ملیکہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي مكررًا عند المصنّف برقم (6357).
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں دوبارہ رقم (6357) پر آئے گی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6189 in Urdu