🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
725. عَطَاءُ النَّبِيِّ مَخْرَمَةَ قَبَاءً
نبی کریم ﷺ کا سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو قبا عطا فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6190
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان الفارسي، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير وسعيد بن أبي مريم وعبد الله بن صالح ويحيى بن بُكَير المِصريُّون بمِصر، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن المِسوَر بن مَخرَمة الزُّهْري، عن أبيه قال: لما أَظهَرَ رسولُ الله ﷺ الإسلامَ أسلم أهلُ مكة كلُّهم، وذلك قبل أن تُفرَضَ الصلاة، حتَّى إذا كان يقرأُ السجدةَ ما يستطيع أحدُهم أن يسجد، حتَّى قَدِمَ رؤساءُ قريشٍ الوليدُ بن المغيرة وأبو جَهْل بن هشام وغيرُهما، وكانوا بالطائف في أرَضِيهم، فقالوا: تَدَعُون دينَ آبائكم؟! فكَفَروا (1) . قال يعقوب بن سفيان: ولا نعلمُ لمخرمةَ بن نوفلٍ حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا. ذكرُ مناقب سعيد بن يَربُوعٍ المخزومي ﵁ -
سیدنا مسور بن مخرمہ زہری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا اظہار فرمایا تو مکہ کے تمام لوگ اسلام لے آئے، یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے والی آیت تلاوت فرماتے تو (ہجوم کی وجہ سے) کسی کو سجدہ کرنے کی جگہ نہ ملتی، یہاں تک کہ قریش کے سردار ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام وغیرہ طائف سے اپنی زمینوں سے واپس آئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ رہے ہو؟“ پس وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے۔ یعقوب بن سفیان کہتے ہیں کہ ہمیں مخرمہ بن نوفل سے اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث معلوم نہیں ہے۔
سیدنا سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6190]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن لَهِيعة به وسوء حفظه. أبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن الأسدي يتيم عروة.» [ترقيم الرساله 6190] [ترقيم الشركة 6130]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6190 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن لَهِيعة به وسوء حفظه. أبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن الأسدي يتيم عروة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ عبد اللہ بن لہیعہ کا اس میں منفرد ہونا اور ان کا 'سوءِ حفظ' (حافظے کی کمزوری) ہے۔ ابو الاسود سے مراد محمد بن عبد الرحمن الاسدی ہیں جو عروہ بن زبیر کے زیرِ پرورش یتیم تھے۔
وأخرجه يحيى بن معين في "تاريخه" برواية الدوري (212)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (617)، والطحاوي في "معاني الآثار" 3/ 331 - 33 والطبراني في "الكبير" (20/ 2)، والبيهقي في "معرفة السنن والآثار" (18268 - 18269)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 57/ 154 و 155 من هذه الطرق التي عند المصنّف عن ابن لَهِيعة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے یحییٰ بن معین نے اپنی "تاریخ" بروایت دوری (212)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (617)، طحاوی نے "معانی الآثار" (3/ 331-332)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (20/ 2)، بیہقی نے "معرفۃ السنن والآثار" (18268-18269) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (57/ 154، 155) میں انہی طرق سے روایت کیا ہے جو مصنف کے ہاں ابن لہیعہ سے اسی سند کے ساتھ موجود ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6190 in Urdu