🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

725. عَطَاءُ النَّبِيِّ مَخْرَمَةَ قَبَاءً
نبی کریم ﷺ کا سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو قبا عطا فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6188
حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم بن الفضل، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بكّار قال: لما حَضَرَت مخرمةَ بن نوفل الوفاةُ بَكَتْه ابنتُه، فقالت: وا أَبَتاه، كان هيِّنًا ليِّنًا فأفاق فقال: مَن النادبةُ؟ فقالوا: ابنتُك، فقال: تعالَيْ، فجاءت، فقال: ليس هكذا يُندَبُ مِثلي، قولي: وا أَبتاه، كان شَهمًا شَيظَميًّا، كان أبًا حَصينًا (2) .
زبیر بن بکار فرماتے ہیں: جب سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو ان کی بیٹی روتے ہوئے پکارنے لگی، ہائے میرے ابا جان نرم مزاج تھے، انہوں نے پوچھا: یہ کون رو رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ کی بیٹی ہے۔ انہوں نے بیٹی کو اپنے پاس بلایا، وہ ان کے قریب آئیں، تو انہوں نے کہا: میرے جیسے شخص کی وفات پر ایسی باتیں کر کے نہیں رویا کرتے بلکہ تم یوں کہو ہائے میرے والد، وہ نشانے پر لگنے والے تیر تھے وہ ایک مضبوط قلعہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6188]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6189
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا مُسلِم بن إبراهيم، حَدَّثَنَا حاتم بن وَرْدان، حَدَّثَنَا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة، عن المِسَور بن مَخرَمة قال: قَدِمَت على النَّبِيّ ﷺ أَقبيَةٌ فقَسَمَها بين أصحابه، فقال لي أَبي: انطلِقْ بنا إليه، فإنه أتته أقبيَةٌ، فتكلَّم أَبي على الباب، فعرف النَّبِيُّ ﷺ صوتَه، فخرج ومعه قَباءٌ، فجعل يقول:"خَبَأتُ لك هذا، خَبَأتُ لك هذا" (3) .
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ چادریں آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادریں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم فرما دیں۔ میرے والد نے مجھے کہا: تم ہمارے ساتھ چلو، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چادریں آئی ہیں۔ ہم وہاں چلے گئے، میرے والد ابھی دروازے پر بات کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی، اور خود باہر تشریف لے آئے، آپ باہر آئے تو آپ کے پاس چادر تھی، آپ (میرے والد سے ملتے ہی) فرمانے لگے کہ میں نے یہ چادر تمہارے لئے سنبھال کر رکھی تھی۔ میں نے یہ چادر تمہارے لئے سنبھال کر رکھی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6189]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں