المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
751. ذكر معتب ابن الحمراء المخزومي رضى الله عنه
سیدنا معتب بن الحمراء مخزومی رضی اللہ عنہ کا بیان
حدیث نمبر: 6260
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حدثني بُرَيدة بن سفيان الأسلمي، عن أبيه، عن أبي اليَسَر كعب بن عمرو قال: أَتيتُ النَّبِيّ ﷺ وهو يبايعُ الناسَ، فقلت: يا رسول الله، ابسُطْ يدَك حتَّى أبايعَك، واشتَرِطْ عليَّ، فأنت أعلمُ بالشَّرط، قال:"أُبايعُك على أن تَعبُدَ الله، وتقيمَ الصلاة، وتُؤتيَ الزكاة، وتناصحَ المسلمَ، وتُفارِقَ المشرِك" (1) . ذكرُ معتِّب بن الحمراء المخزومي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
بریدہ بن سفیان اسلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوالیسر فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں، اور آپ اس بیعت کے لئے مجھ پر کوئی شرط رکھیں، کیونکہ آپ ہی شرائط کے بارے میں بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس شرط پر تیری بیعت لوں گا کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا، اور نماز قائم کرے گا، اور زکوۃ دے گا اور مسلمانوں کی خیر خواہی کرے گا، اور مشرکوں سے جدا رہے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6260]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6260 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح لكن من حديث جرير بن عبد الله البجلي، وهذا إسناد ضعيف لضعف بريدة بن سفيان، وأغلب الظن أنه هو الذي أخطأ فيه فجعله من حديث أبي اليسر، وهذا الطريق انفرد به المصنّف ولم نقف عليه عند غيره.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اصلاً 'صحیح' ہے مگر یہ حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی کی روایت سے ثابت ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کی یہ سند بریدہ بن سفیان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے؛ غالب گمان یہ ہے کہ اسی راوی نے غلطی سے اسے ابو الیسر کی حدیث قرار دے دیا۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس طریق کے بیان میں مصنف اکیلے ہیں اور یہ کہیں اور نہیں ملا۔
وقد أخرج هذا الحديث بلفظه النسائي (7752)، والبيهقي 9/ 13، وابن عبد البر في "التمهيد" 16/ 349 - 350 من طريق جرير بن عبد الحميد، عن منصور بن المعتمر، عن أبي وائل شقيق بن سلمة، عن أبي نخيلة البجلي، عن جرير بن عبد الله. وهذا إسناد صحيح، إلّا أنه قد اختُلف في ذكر أبي نخيلة في الإسناد على ما هو مبيَّن في "مسند أحمد" (31/ 19153).
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ نسائی (7752)، بیہقی (9/ 13) اور ابن عبد البر نے "التمہید" (16/ 349) میں جریر بن عبد الحمید عن منصور بن المعتمر کی سند سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند صحیح ہے، اگرچہ اس میں 'ابو نخیله' کے ذکر پر اختلاف ہے جیسا کہ 'مسند احمد' (31/ 19153) میں واضح کیا گیا ہے۔
وقد روي نحوه من غير وجه عن جرير بن عبد الله، وأصله في البخاري (57) و (58) ومسلم (56).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت جریر بن عبد اللہ سے یہ روایت دیگر طرق سے بھی مروی ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری (57، 58) اور صحیح مسلم (56) میں موجود ہے۔