🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
750. بَيْعَةُ أَبِي الْيَسَرِ عَلَى يَدِ النَّبِيِّ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر سیدنا ابو الیسر رضی اللہ عنہ کی بیعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6260
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حدثني بُرَيدة بن سفيان الأسلمي، عن أبيه، عن أبي اليَسَر كعب بن عمرو قال: أَتيتُ النَّبِيّ ﷺ وهو يبايعُ الناسَ، فقلت: يا رسول الله، ابسُطْ يدَك حتَّى أبايعَك، واشتَرِطْ عليَّ، فأنت أعلمُ بالشَّرط، قال:"أُبايعُك على أن تَعبُدَ الله، وتقيمَ الصلاة، وتُؤتيَ الزكاة، وتناصحَ المسلمَ، وتُفارِقَ المشرِك" (1) . ذكرُ معتِّب بن الحمراء المخزومي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6137 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں، اور مجھ پر شرطیں رکھیں کیونکہ آپ ان شرائط کو بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو گے، نماز قائم کرو گے، زکوٰۃ ادا کرو گے، مسلمانوں کے خیر خواہ رہو گے اور مشرک سے علیحدگی اختیار کرو گے۔
سیدنا معتب بن حمراء مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6260]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث جرير بن عبد الله البجلي، وهذا إسناد ضعيف لضعف بريدة بن سفيان، وأغلب الظن أنه هو الذي أخطأ فيه فجعله من حديث أبي اليسر، وهذا الطريق انفرد به المصنّف ولم نقف عليه عند غيره.» [ترقيم الرساله 6260] [ترقيم الشركة 6194] [ترقيم العلميه 6137]

الحكم على الحديث: حديث صحيح لكن من حديث جرير بن عبد الله البجلي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6260 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح لكن من حديث جرير بن عبد الله البجلي، وهذا إسناد ضعيف لضعف بريدة بن سفيان، وأغلب الظن أنه هو الذي أخطأ فيه فجعله من حديث أبي اليسر، وهذا الطريق انفرد به المصنّف ولم نقف عليه عند غيره.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اصلاً 'صحیح' ہے مگر یہ حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی کی روایت سے ثابت ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کی یہ سند بریدہ بن سفیان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے؛ غالب گمان یہ ہے کہ اسی راوی نے غلطی سے اسے ابو الیسر کی حدیث قرار دے دیا۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس طریق کے بیان میں مصنف اکیلے ہیں اور یہ کہیں اور نہیں ملا۔
وقد أخرج هذا الحديث بلفظه النسائي (7752)، والبيهقي 9/ 13، وابن عبد البر في "التمهيد" 16/ 349 - 350 من طريق جرير بن عبد الحميد، عن منصور بن المعتمر، عن أبي وائل شقيق بن سلمة، عن أبي نخيلة البجلي، عن جرير بن عبد الله. وهذا إسناد صحيح، إلّا أنه قد اختُلف في ذكر أبي نخيلة في الإسناد على ما هو مبيَّن في "مسند أحمد" (31/ 19153).
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ نسائی (7752)، بیہقی (9/ 13) اور ابن عبد البر نے "التمہید" (16/ 349) میں جریر بن عبد الحمید عن منصور بن المعتمر کی سند سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند صحیح ہے، اگرچہ اس میں 'ابو نخیله' کے ذکر پر اختلاف ہے جیسا کہ 'مسند احمد' (31/ 19153) میں واضح کیا گیا ہے۔
وقد روي نحوه من غير وجه عن جرير بن عبد الله، وأصله في البخاري (57) و (58) ومسلم (56).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت جریر بن عبد اللہ سے یہ روایت دیگر طرق سے بھی مروی ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری (57، 58) اور صحیح مسلم (56) میں موجود ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6260 in Urdu