المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
757. دعاء أبى هريرة بعلم لا ينسى وتأمين النبى
ابو ہریرہ کی وہ دعا جس میں بھلایا نہ جانے والا علم مانگا گیا اور نبی کریم ﷺ کا اس پر آمین کہنا
حدیث نمبر: 6281
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: تُوفِّيَ أبو هريرة سنةَ تسع وخمسين في آخر إمارة معاوية، وكان له يومَ تُوفِّيَ ثمانٍ وسبعون سنةً، وصلى عليه الوليد بن عُتْبة وهو أميرُ المدينة، ومروانُ يومئذٍ معزولٌ عن عمل المدينة، فحدَّثَني ثابتُ بن قيس عن ثابت بن مِشحَل قال: كتب الوليدُ إلى معاوية يخبرُه بموت أبي هريرة، فكتب إليه: انظُرْ مَن تَرَكَ فادفَعْ إلى وَرَثَتِه عشرةَ آلافِ درهم، وأَحسِنْ جِوارَهم، وافعَلْ إليهم معروفًا، فإنه كان ممَّن نَصَرَ عثمانَ، وكان معه في الدَّار، ﵀ (1) .
محمد بن عمر کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 59 ہجری کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے اواخر میں ہوا۔ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اس وقت ان کی عمر 78 برس تھی، ولید بن عتبہ ان دنوں مدینہ کا امیر تھا اسی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی، ان دنوں مروان مدینہ سے معزول تھا۔ ولید بن عتبہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب خط لکھا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط میں لکھا کہ ان کے وارثوں کو دیکھو (کہ کتنے ہیں؟) ان کے ہر وارث کو دس ہزار درہم دے دو، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، ان کی خوب خدمت کرو، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کی تھی۔ اور ان کے ساتھ ان کے گھر میں موجود رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6281]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6281 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ثابت بن قيس شيخ محمد بن عمر الواقدي فيه: هو الغفاري مولاهم أبو الغُصن المدني، ليس به بأس، وثابت بن مِشحل: هو مولى أبي هريرة، وقد ذكره ابن حبان في "الثقات".
🔍 ناموں کی تحقیق: ثابت بن قیس (واقدی کے استاد) الغفاری المدنی ہیں جن میں کوئی حرج نہیں؛ جبکہ ثابت بن مشحل حضرت ابو ہریرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ابن حبان نے انہیں 'الثقات' میں ذکر کیا ہے۔
ورواه عن الواقدي ابن سعد في "الطبقات" 5/ 257، ومن طريقه ابن عساكر 67/ 391.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' (5/ 257) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (67/ 391) نے روایت کیا ہے۔