🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
756. ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ فِي سَنَةِ وَفَاتِهِ
وفات کے سال میں اختلاف کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6281
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: تُوفِّيَ أبو هريرة سنةَ تسع وخمسين في آخر إمارة معاوية، وكان له يومَ تُوفِّيَ ثمانٍ وسبعون سنةً، وصلى عليه الوليد بن عُتْبة وهو أميرُ المدينة، ومروانُ يومئذٍ معزولٌ عن عمل المدينة، فحدَّثَني ثابتُ بن قيس عن ثابت بن مِشحَل قال: كتب الوليدُ إلى معاوية يخبرُه بموت أبي هريرة، فكتب إليه: انظُرْ مَن تَرَكَ فادفَعْ إلى وَرَثَتِه عشرةَ آلافِ درهم، وأَحسِنْ جِوارَهم، وافعَلْ إليهم معروفًا، فإنه كان ممَّن نَصَرَ عثمانَ، وكان معه في الدَّار، ﵀ (1) .
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 59 ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دورِ امارت میں ہوئی، اور وفات کے وقت ان کی عمر 78 برس تھی، ولید بن عتبہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی جبکہ وہ اس وقت مدینہ کے امیر تھے اور مروان ان دنوں مدینہ کی گورنری سے معزول تھا، ثابت بن قیس نے ثابت بن مشعل سے روایت کی کہ ولید نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دی، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ”دیکھو کہ انہوں نے پیچھے کون سے ورثاء چھوڑے ہیں، پس ان کے ورثاء کو دس ہزار درہم ادا کرو، ان کے پڑوس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو، کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کی تھی اور وہ (محاصرے کے وقت) گھر میں ان کے ساتھ موجود تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6281]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6281] [ترقيم الشركة 6214]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6281 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ثابت بن قيس شيخ محمد بن عمر الواقدي فيه: هو الغفاري مولاهم أبو الغُصن المدني، ليس به بأس، وثابت بن مِشحل: هو مولى أبي هريرة، وقد ذكره ابن حبان في "الثقات".
🔍 ناموں کی تحقیق: ثابت بن قیس (واقدی کے استاد) الغفاری المدنی ہیں جن میں کوئی حرج نہیں؛ جبکہ ثابت بن مشحل حضرت ابو ہریرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ابن حبان نے انہیں 'الثقات' میں ذکر کیا ہے۔
ورواه عن الواقدي ابن سعد في "الطبقات" 5/ 257، ومن طريقه ابن عساكر 67/ 391.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' (5/ 257) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (67/ 391) نے روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6281 in Urdu